لاہور، پاکستان میں آج کل ووٹ کا معیار صرف گالم گلوچ رہ گیا ہے،خورشید شاہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ کل کشمیریوں ست اظہاریکجہتی کے لئے یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا،لیکن کشمیر سے اظہار یکجہتی صرف جلسے کرنے سے نہیں ہوتابلکہ ناس کے لئے علمی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں،حال ہی میں انڈنیشیا کیصدر نے پاکستان کا دورہ کیا انہوں نے اپنی تقریر میں صرف فلسطین کا ذکر کیا لیکن کشمیر کے حوالے سے کچھ نہیں کہا اسکا مطلب ہے کہ ہمارا دفتر خارجہ انہیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بتانے میں ناکام رہی تاہم اسسے پہلے انڈونیشیا ملائیشیا اور دیگر ممالک نے کشمیر کے موقف کی بھر پور حمایت کی۔
لاہور میں نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سر کٹ گئے لیکن پاکستان توڑنے کی بات نہیں کی، بانی پیپلزپارٹی کو پھانسی دی گئی، بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا لیکن پھر بھی پاکستان کی بات کرتے ہیں۔
خورشید شاہ کا کہنا تھا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کشمیر کا ذکر نہ کرنے پر بہت افسوس ہوا، یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طور پر منانا چاہئے، ہمارے دور میں مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کے مسئلے پر بہت کام کیا، ہزار سال جنگ کی بات بھی ہماری قیادت نے کی تھی ہم کشمیریوں کا مرتے دم تک ساتھ دیتے رہیں گے۔
خورشید شاہ کا مزیدکہنا تھا کہ حتیٰ الامکان کوشش کرتا ہوں کہ زبان سے اچھی بات نکلے لیکن پاکستان میں آج کل ووٹ کا معیار صرف گالم گلوچ رہ گیا ہے جو جتنی گالیاں دیتا ہے اسے اتنی ہی شہرت ملتی ہے،پاکستان کی معاشی صورتحال بتاؤں تو لوگ ڈر جائیں گے 2013 میں ہمارے اوپر قرضہ 14300 بلین تھا اور آج یہ قرضہ 21ہزار بلین تک پہنچ چکا ہے یہ قرضہ کون چکائیگا۔