لاہور،زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی
زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کے جیل ٹرائل کا فیصلہ کر لیا گیا
ہے،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت میں جمع کروا
دی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم آٹھ بچیوں سے زیادتی اور ان کے قتل میں
ملوث ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ملزم عمران علی کے جیل میں ٹرائل کا فیصلہ کیا ہے
جیل میں ملزم کو الگ رکھا جائے گا اور ملزم کے لیے الگ سیل قائم کر دیا گیا
ہے اورر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کر دیئے گئے ہیں جس سے ملزم کی ہر وقت
نگرانی کی جا سکے گی سیکیورٹی خدشات ہیں اس لیے ملزم کا جیل ٹرائل کیا
جائے محکمہ داخلہ پنجاب کا فیصلہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جمع
کروا دیا گیا ہے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا ہے کہ آئندہ سے کیس کی
سماعت جیل میں ہوگی جبکہ ملزم عمران علی کے وکیل نے عمران علی کے بے قصور
ہونے کا دعوی کر دیا۔
ملزم عمران علی کے وکیل مہرشکیل ملتانی نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے
گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قصور واقعہ میں نامزد ملزم عمران علی کے خلاف
کوئی بھی واضح ثبوت موجود نہیں ہیں،اگر آج عدالت عمران علی کو رہا کر دے تو
عمران علی کے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ملے گا۔
عمران علی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر صرف وزیر اعلی شہباز شریف کے کہنے پر
عمرا ن علی کوپھانسی دینی ہے تو اس طرح سے تو پورے پنجاب کو پھانسی دے
دیں، ہم عمران علی کو اس کیس میں بے گناہ ثابت کر کے رہیں گے۔
ملزم عمران علی کے وکیل نے ڈی این اے میچ ہونے کی خبر کو بھی غلط قرار
دیااور کہا کہ وہ ہر صورت میں عمران علی کو بے قصور ثابت کر کے رہیں
گے،کیونکہ عمران علی کے خلاف کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔