کراچی،پاکستان پیرا میڈیکل ایسو سی ایشن کی جانب سے میڈیکل ملازمین کے مطالبات کے حق میں دھرنا
سندھ بھر کے میڈیکل ملازمین کے دیرینہ مطالبات کے حق میں پاکستان پیرا
میڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سےعلامتی دھرنا دیا گیا ،جس میں ایسوسی
ایشن کے مرکزی عہدیدار صدر اللہ ڈنو پاڑھو، چیئرمین اللہ ڈنو سلنگی ، چیف
آرگنائزر نثار احمد لاشاری اور سندھ بھر سے آئے ہوئے دیگر میڈیکل ملازمین
شامل تھے، دھرنے کے شرکانے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے اپنے مطالبات کے حق
میں شدید نعرے بازی کی۔
کراچی پریس کلب کے سامنے پاکستان پیرامیڈیکل اسٹاف ایسوسی ایشن کے
عہدیداروں نے دھرنے کے شرکاءِ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کئی سالوں سے
ٹائم اسکیل، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس، سروسز اسٹرکچر ، سن کوٹہ اور دیگر
مطالبا ت کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ عہدیداروں نے کہا کہ کئی بار سیکریٹری
صحت نے ہم سے مزاکرات کر کے ہمارے مطالبات کو جائز قرار دیا اور ہمارے
مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی لیکن ابھی تک ہمارے حقوق نہیں
دیئے گئے صرف وعدے اور لیٹر سے کام لیا جارہا ہے ۔
دھرنے کے شرکاءِ کامطالبہ ہے کہ تحریری وعدوں کے مطابق ہمارے مطالبات کی
منظوری کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کئے جائیں ، 2006 کے ٹائم اسکیل کو بحال کی
جائے اور فنانس ڈپارٹمنٹ سے جاری ملازمین دشمن لیٹر واپس لئے جائیں۔
اس موقع پر ایک ملازم نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے
کہا کہ ہمارے جائز مطالبا ت ہیں جو حکومت نے مانے ہوئے ہیں جن میں ہیلتھ
الاؤنس ، سروس کوٹہ اور فوتگی کوٹہ و دیگر مطالبات شامل ہیں۔
مظاہرے میں شریک شخص نے مزید کہا 2016 سے ہمارا پر امن احتجاج چل رہا ہے جس
میں ہم نے کشمور سے کراچی تک لانگ مارچ بھی کیا تھا اگر ہمارے جائز
مطالبات پر فوری عمل نہیں کیا گیا تو ہم سی ایم ہاؤس کے سامنے دھرنا اور
احتجاج کریں گے جس کے باعث اگر حالات خراب ہوئے تو اسکی تما م ترذمہ داری
حکومت پر عائد ہوگی۔