اسلام آباد،جج صاحبان جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں وہ انہیں زیب نہیں دیتی، نواز شریف
شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی
صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہو ئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز نے 2 ہفتوں کیلئے استثنیٰ مانگا تھا
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا 19 فروری سے 2 ہفتے کیلئے حاضری سے
استثنیٰ دیا جائے، استثنیٰ بیگم کلثوم نواز کی علالت کی وجہ سے مانگا ہے،
نوازشریف اور مریم نواز نے لندن جانا ہے۔
احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو
کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ جج صاحبان جس طرح کی زبان
استعمال کررہے ہیں وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔
سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ جن لوگوں نے پرویز مشرف کے زمانے میں حلف
لیا انہیں پی سی او جج کہا جاتا ہے، اب ایک آمر سے حلف لینے والے ہمیں
اخلاقیات کا درس دیں گے، جو اپنے حلف سے غداری کرتے ہیں ان کے درس کو قبول
نہیں کرنا چاہیے،ہم عزت نفس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہمیں اپنے ضمیر کی
آواز کو سننا چاہیے، کسی پاکستانی اور سیاسی لیڈر کو پی سی او ججز کو قبول
نہیں کرنا چاہیے۔
نواز شریف نے کہا کہ جج صاحبان جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیں وہ انہیں
زیب نہیں دیتی، جس طرح کے جملے اور الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں کیا اس کے
لیے بھی کوئی قانون ہے، پھر ان ججز اور عمران خان کی زبان میں کیا فرق رہ
جاتا ہے، اب یہ لوگ مجھے پارٹی صدارت سے ہٹانا چاہتے ہیں لیکن دل اور نیت
صاف ہو تو اللہ تعالیٰ ساتھ دیتا ہے، میں نے کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں
کی، یہ لوگ ٹیڑھی بنیادوں پر کثیر المنزلہ عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں، میں
ایسے فیصلوں کو نہیں مانتا۔