Feb 16, 2018 02:34 pm
views : 431
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- Naqeebullah Mehsud Father Media Talk
اسلام آباد ، نقیب اللہ قتل کیس، سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے
نقیب اللہ قتل میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔
جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوان نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت
سپریم کورٹ میں جاری ہے، سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ کررہا ہے،
تاہم نقیب اللہ قتل کیس میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار حفاظتی
ضمانت ملنے کے باوجود سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوئے۔
سماعت کے دوران چف جسٹس پاکستان نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا، کیا راؤ
انوارعدالت آئے ہیں جس کے جواب میں آئی جی سندھ نے کہا راؤ انوار نہیں
آئے، چیف جسٹس نے کہا ہم نے راؤ انوار کو عدالت میں پیش ہونے کیلئے موقع
دیا تھا، پولیس کی ذمہ داری ہے راؤ انوار کو گرفتار کرے، تمام ایجنسیوں کو
بھی پولیس کی مدد کا کہاتھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا میرے خیال
میں راؤ انوارنے بہت بڑا موقع ضائع کر دیا، کچھ دیر انتظار کرلیتے ہیں، بعد
ازاں راؤ انوار کی عدم پیشی پر سماعت کے دوران کچھ دیر کیلئے وقفہ کردیا
گیا۔
کراچی میں پولیس مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کے
والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بے گناہ تھا اور راؤ انوار نے ظلم کیا۔
سپریم کورٹ میں پیشی کے
موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نقیب اللہ کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس
افسر راؤ انوار کے ظلم کے خلاف آج سپریم کورٹ آئے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ سے
انصاف چاہیے اور انشاءاللہ انصاف ملے گا۔
واضح رہے کہ 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی
ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت
گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔
بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کی سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہوئیں جس
کے بعد میڈیا نے بھی پولیس مقابلے پر سوالات اٹھائے جس پر اعلیٰ حکام کی
جانب سے نوٹس لیا گیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے نقیب اللہ کے ماورائے
عدالت قتل کا ازخود نوٹس لیا گیا تو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار فرار ہوگئے
اور اب تک مفرور ہیں۔