کراچی ، سربراہ ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار اپنے نامزد سینیٹ امیدواروں سے دستبردار
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر فاروق ستار اپنے نامزد سینیٹ امیدواروں سے
دستبردار ہوگئے ،انہوں نے بہادرآباد مرکز کو امیدوار نامزد کرنے کا اختیار
دینے کا اعلان کردیا ۔
کراچی میں پی آئی بی کالونی میں پریس کانفرنس میں فاروق ستار نے کہا کہ
سینیٹ کے ٹکٹوں کا جھگڑا ختم ہوگیا مگر سربراہ اور فیصلہ سازی میں اس کے
حتمی اختیارات کا مسئلہ تاحال موجود ہے ،میری کوئی انا نہیں ،بس عزت نفس کا
مسئلہ ہے،میں ڈیمانڈ کرنا نہیں چاہتا ،پارٹی کمانڈ کرنا چاہتا ہوں ۔
سربراہ ایم کیو ایم پاکستان کا کہناتھاکہ سینیٹ الیکشن کی چار نشستوں کے
لئے تحلیل شدہ رابطہ کمیٹی کے اراکین سے کہتا ہوں کہ اپنی مرضی کے 4نام دے
دیں،وہی میرے امیدوار ہوں گے ،میں ان کے ناموں کا اعلان کردوں گا۔
فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ نشستوں کے اراکین کی نامزدگی کا اختیار بہادر
آباد گروپ کو دینے کا اقدام بڑے پن کے مظاہرے کے تحت کیا ، آپ کو شاید یہ
فیصلہ بڑا نہ لگے۔
ایم کیو ایم پاکستان کےسربراہ نے یہ بھی کہا کہ یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ
سینیٹ نشستیں یا کوئی فرد ہمارے اختلافات کی وجہ ہے،کارکنوں میں یہ
بدگمانی نہیں پھیلائی جائے کہ فاروق بھائی اڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ اب میری طرف یہ الزام نہیں آنا چاہیے کہ
میں سینیٹ نشستوں کے ناموں کے لئے ناراض ہوں،میں تین مرتبہ بہادرآباد
جارہا تھا کوئی نہ کوئی ایکشن وہاں ہوا کہ میں نہیں جاسکا۔
فاروق ستار کا کہناتھاکہ کل بہادر آباد والے الیکشن کمیشن گئے تھے ،انٹرا
پارٹی الیکشن کو رکوانے کے لئے لیکن انہیں اسٹے نہیں ملا،بہادرآباد گروپ
کا اجلاس غیر آئینی ہے،آج اس کا نتیجہ آجائےگا۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ بھی کہا کہ
بہادرآباد گروپ نے مجھے دو تہائی اکثریت سے ہٹایا تھا،الیکشن کمیشن نے
مجھے پارٹی کے کے کنوینیر کے طور پر برقرار رکھا اور میرے ہی نام سے پارٹی
کو رجسٹر رکھا،کارکنوں کو مزید گمراہ نہ کیا جائے ۔
ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ نے مزید کہا کہ جو بھی وہاں ہے اس سے کہوں گا
واپس آجائے،تنظیم عہدے داروں سے نہیں کارکنوں سے ہوتی ہے،23اگست کو پارٹی
کو بکھرنے سے بچایا تھا۔