راولپنڈی،صدرمملکت ممنون حسین کا 15ویں بین الاقوامی کارڈیک الیکٹروفیزیالوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب
صدرمملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ متعدی امراض کے علاج کیلئے طبی تحقیق
پرمزید توجہ دینے کی ضرورت ہے ، غریب اور پسماندہ علاقوں کے عوام تک علاج
معالجے کی سستی سہولتیں پہنچانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ
ساتھ طبی ادارے اور پیشہ ورانہ انجنمیں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
پندرہویں بین الاقوامی کارڈیک الیکٹروفیزیالوجی کانفرنس کی افتتاحی تقریب
سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ دل کے امراض کی تشخیص، علاج اور
جراحی کے مراحل اتنے مشکل ، طویل اور مہنگے ہیں کہ متوسط اور غریب طبقہ ان
کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں طبی تحقیق کا
فقدان ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسے امراض کی تشخیص اور علاج کے لیے درکار
آلات اور مشینری درآمد کرنی پڑتی ہے جس کی وجہ سے علاج کی لاگت میں مزید
اضافہ ہو جاتا ہے۔
تقریب میں میں ایڈجوٹنٹ جنرل پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر،
سرجن جنرل و ڈی جی میڈیکل سروسز،لیفٹیننٹ جنرل زاہد حمید، پاکستان اور
بیرون پاکستان سے آنے والے ماہرینِ امراضِ قلب نے بھی شرکت کی۔
صدرممنون حسین نے معاشرے کے پسماندہ طبقوں اورغریبوں کیلئے صحت کی بہتر
سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پرزوردیا ہے۔