div>کراچی میں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے نئی رابطہ کمیٹی اور پارٹی سی ای سی
کے چناؤ کے لئے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کیا گیا،جس میں مختلف ڈسٹرکٹ
اور علاقوں میں کیمپ لگائے گئے،الیکشن میں مختلف علاقوں سے سینکڑو ں
کارکنان ، ذمہ داران اور حمایتیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیاجن میں
خواتین اور بزرگوں نے بھی حصہ لیا۔
ایم کیو ای کے کارکنون کا کہنا ہے کہاختلاف رائے
تو ہر پارٹی میں ہوتی ہے لیکن ابھی صورتحال اتنی خراب نہیں ہوئی ہے ،ہماری
کوشش ہے کہ ایم کیو ایم کو مستحکم کیا جائے،
آج کے الیکشن کی بدولت ویسے ہی صاف ستھرے لوگ آئیں کہ 1986 والی ایم کیو
ایم کی یاد تازہ ہو جائے اور منتخب شدہ لوگ اسی طریقے سے بے لوث خدمت کریں
جیسے 86 میں کرتے تھے۔
اس موقع پرذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے
رہنما فیض محمد فیضی کا کہنا تھا کہ اختلافات جمہوریت کا ایک حسن ہوتا ہے
اختلاف رائے
تو ہر پارٹی میں ہوتی ہے لیکن ابھی صورتحال اتنی خراب نہیں ہوئی ہے ،ہماری
کوشش ہے کہ ایم کیو ایم کو مستحکم کیا جائے ۔
ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم تقسیم نہیں ہورہی بلکہ اسٹیبل ہورہی ہے اور
ایک صاف ستھری سیاست کی طرف جارہی ہے جو کہ اسکا ماضی میں اثاثہ رہا ہے اور
ہماری شروع سے ہی کوشش رہی ہے کہ ایم کیو ایم کو کرپشن سے دور رکھا جائے
اس میں پڑھے لکھے اور قابل کارکنان لائے جائیں تاکہ بہتر ایم کیو ایم تشکیل
دی جاسکے۔
چا چا ایم کیو ایم نے کہا کہ فاروق ستار بھائی کے
ساتھ جو بھی ٹیم ہے وہ بہت سینئر اور مخلص لوگوں کی ٹیم ہے ،ہم چاہتے ہیں
آج کے الیکشن کی بدولت ویسے ہی صاف ستھرے لوگ آئیں کہ 1986 والی ایم کیو
ایم کی یاد تازہ ہو جائے اور منتخب شدہ لوگ اسی طریقے سے بے لوث خدمت کریں
جیسے 86 میں کرتے تھے، فاروق ستار بھائی نہ صرف سینئر سیاست دان ہیں بلکہ کول
مائنڈ انسان بھی ہیں وہ کارکنان سے سختی سے نہیں بلکہ نرمی اور عاجزی سے
بات کرتے ہیں وہ تحریک ، قوم اورپاکستان کے ساتھ مخلص ہیں۔