اسلام آباد،مجھے سیاست سے زندگی بھر کے لئے باہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،نواز شریف
سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے یہ کوئی غیر متوقع فیصلہ نہیں ہے،
پہلے انھوں نے ایگزیکیٹو حکومت کو مفلوج کردیا اور اب اس فیصلے نے مقننہ
(پارلیمنٹ) کا اختیار بھی چھین لیا ہے، نواز شریف نے گذشتہ روز سپریم کورٹ
کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیئے جانے کے فیصلے پر
ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلے غصے اور بغض میں دیئے جارہے ہیں۔
احتساب عدالت میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے
ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا 28 جولائی کو میری وزارت چھین لی گئی اور کل کے
فیصلے سے مجھ سے مسلم لیگ (ن) کی وزارت چھین لی گئی، میرا نام محمد نواز
شریف ہے، آئین میں کوئی شق ڈھونڈیں، جس کی مدد سے مجھ سے میرا نام محمد
نواز شریف بھی چھین لیں۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوئی قانون نہیں کہ بیٹے سے
تنخواہ نہ لینے پر وزیراعظم کو نکال دو، 28 جولائی کے فیصلے میں بلیک لاء
ڈکشنری استعمال کی گئی تھی، کل جو فیصلہ ہوا ہے، اس کی بنیاد بھی وہی فیصلہ
ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے اور اقامہ کی بنیاد پر نااہل کردیا گیا۔ اب
یہ مزید خوروخوض کر رہے ہیں کہ نواز شریف کو زندگی بھر کے لیے نااہل قرار
دے دیں۔