لاہور،ہائیکورٹ میں پتنگ بازی سے متعلق کیس کی سماعت
لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ ایوسی ایشن کے عہدیداران اور پتنگ بازوں کے
گھروں پر مبینہ طور پر غیر قانونی چھاپوں کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی۔
اہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پرسماعت کی،کائٹ فلائنگ ایسوسی
ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب بھر میں پتنگ بازی اوراسکے سامان
کی تیاری کی پابندی پرمکمل عملدرآمد کیا جارہا ہے ،پولیس کی جانب سے کائٹ
فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے گھروں کے علاوہ نامور پتنگ بازوں اور
عام شہریوں کے گھروں پرغیر قانونی چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے،بلاجواز
چھاپوں سے گھروں کی چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا ہے۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے وکیل نے کہا کہ غیر قانونی چھاپوں کے خلاف آئی
جی پنجاب اور دیگر حکام کو درخواستیں دیں مگر شنوائی نہیں ہوئی،عدالت پنجاب
پولیس کو گھروں اور کاروباری مراکز پرغیر قانونی چھاپوں سے روکنے کا حکم
دے،عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے لارڈ میئرلاہور کو درخواست پر سات روزمیں
فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔
اس موقع پرذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کائٹ فلائنگ
ایسوسی ایشن کے وکیل عثمان عمر کا ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو
کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے رٹ پٹیشن فائل کی ہے دو ہزار نو کے قانون کے
مطابق کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کو پندرہ روز تک پتنگ بازی کا سامان بنانے
کی اجازت دی گئی تھی تاہم حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں رکاوٹیں ڈالی جا
رہی ہیں۔
کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین لا لا بلو کا کہنا تھا کہ صوبائی
اسمبلی سے دو ہزار نو میں بل پاس ہوا تھا جوجزا سزا اور کاوبار کے حوالے
تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہمیں کاروبار کی مشروط اجازت دی گئی تھی
ہم چیف جسٹس ثاقب نثار سے درخواست کرتے ہیں کہ اس معاملے پر از خود نوٹس
لیں۔