پشاور ، او ٹی بی مٹاو مہم کے سلسلے میں ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے سیمینار کا انعقاد
محکمہ صحت خیبر پختونخواہ نے سال 2020 تک او ٹی بی مٹاو مہم کے زریعے ٹی بی کے خاتمے لیے جامع پلان تیار کر لیا ہے۔
پشاور پریس کلب میں ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی حکومت کے اشتراک سے
سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر
خالد اقبال نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ او ٹی بی مٹاو پروگرام کے
تحت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان مریضوں تک بھی رسائی حاصل کی جائیگی
جو تشخیص اور علاج لے لیے ہسپتالوں تک نہیں پہنچ پاتے ،جدید ٹیکنالوجی سے
لیس دو مو بائل ایکسر ے وینز دوردراز کے علاقوں میں جائیگی اور وہاں
ہسپتالوں اسکولوں محلوں اور جیلوں سمیت کئی جگہوں پر لوگو ں کو مفت چیسٹ
ایکسرے اور جین ایکسپرٹ ٹیسٹ ان کی دہلیز پر فراہم کریگی۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مفت
ادویات دینے کے ساتھ ساتھ نجی ہسپتالوں میں بھی ٹی بی کے مریضوں کو مفت
ادویات فراہم کی جارہی ہیں ،2017 میں صوبائی ٹی بی کنٹرول کے تحت 43000ٹی
بی اور 273 مزاحمتی ٹی بی کے مریضوں کا کامیاب علاج کیا گیا۔
اس موقع پر پروجیکٹ منیجر ڈاکٹر عبدالخالق نے ذرائع ابلاغ عامہ کے نمائندؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ