لاہور:نواز شریف کی دوسری بار نااہلی کے حوالے سے وکلا برادی کی رائے
سپریم کورٹ نے نواز شریف کو دوسری بار نااہل کرتے ہوئے پارٹی سربراہی سے
بھی نااہل قراردے دیا جس پر وکلا برادری نے اپنے خیالات کا اظہا رکیا ۔
لاہور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے ایڈوکیٹ صلاح الدین کھرل نے ذرائع ابلاغ
عامہ کے نمائندے سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ملک کا ایک نااہل سربر اہ اپنی
پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا اس لئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ
درست دیا گیا ہے ، کیونکہ اسلام اور پاکستان کے آئین کے مطابق بھیء عدالت
کا یہ فیصلہ صحیح ہے ۔
صلاح الدین کھرل نے کہا کہ نواز شریف کے کیسز کی سماعت عدالت میں چل رہی
اورجب تک عدالت انہیں بری نہیں کر تی وہ نا اہل ہی رہیں گے لہٰذا ہم عدالت
کے اس فیصلے کی تائد کر تے ہیں۔
اس موقع پر چیف پاکستان جسٹس پارٹی منصف امان نے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 17
میں کہیں بھی لکھا نہیں ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جس میں کوئی کمی ہو وہ
اپنی پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا، یہ پارٹی اراکین کی اپنی ذاتی مرضی پر
منحصر ہے کہ وہ جس کو چاہیں اپنی پارٹی کا سربراہ بنائیں لہٰذا عدالت کا یہ
فیصلہ غلط ہے۔
منصف امان نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کے پچھلے تمام فیصلوں کو بھی
کالعدم قراد دیا اس لحاظ سے تویہ فیصلہ بالکل ہے کیوں پاکستان کی تاریخ میں
آج تک عدالتوں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں دیا کہ پچھلے فیصلوں کو رد کر دیا
گیا ہو جس پر ہم یہ کہیں گے کہ یہ فیصلہ قانون اور آئین کے خلاف ہے ۔