سکھر ، پلاٹوں پر آئی بی اے اور ضلعی انتظامیہ کے غیر قانونی قبضے کے خلاف شہریوں کا احتجاجی مظاہرہ
سکھر میں انسٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریٹ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نثار احمد
صدیقی اور اسٹنٹ کمشنر سمیت دیگر انتظامیہ نے سورٹھ سوسائٹی کی زمین پر
شہریوں کے 56 پلاٹوں پر غیرقانونی قبضہ کر کے ان پر تعمیر و مرمت شروع کر
دادی ہے جس پر شہریوں نے سکھر آئی بی اے اور ضلع انتظامیہ کے خلاف احتجاجی
مظاہرہ کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر قبضہ ختم کرانے کیلئے
نعرے درج تھے ،مظاہرین نے آئی بی اے اور ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے
بازی بھی کی ، مظاہرین نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ، بلاول بھٹوزرداری اور
دیگر حکام سے اپیل کی ہے کہ انکے پلاٹوں سے قبضے ختم کرائیں۔
اس حوالے سے سکھر پریس کلب کے سامنے ایک شہری نے ذرائع ابلاغ عامہ کے
نمائندے سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ہم چھ ماہ سے پریشان ہیں ہمارے رجسٹر
ڈپلاٹوں پر آئی بی اے نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے نہ تو یہ ہمارے پلاٹوں
کی ادائیگی کر رہے ہیں اور نہ ہی قبضہ ختم کر رہے ہیں ۔
شہری نے کہا کہ پلاٹوں کے حصول کیلئے ہم نے کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، اسسٹینٹ
کمشنر اور دیگر افسران سے رابطے کئے جس پر اسسٹینٹ کمیشنر نے لینڈ
لیکیوڈیشن ایکٹ کے تحت معاوضہ دینے کا کہا جو کہ ہمارے پلاٹوں کی قیمت سے
بہت کم ہے مگر نثار صدیقی ہمارے پلاٹوں کی ادائیگی نہیں کر رہا ہے اور
تعمیر جاری رکھی ہوئی ہے جبکہ نثار صدیقی لوگوں سے جھوٹ بولتا ہے کہ میں
قیمت ادا کر کے تعمیر کر وارہا ہوں۔
شہری نے مذید کہا کہ ہم نے پر امن طریقے سے بہت کوششیں کر لی مگر ہماری
فریاد سننے والا کوئی نہیں اس لئے مجبور ہو کر ہم احتجاجی مظاہرہ کر رہے
ہیں ۔