Mar 26, 2018 07:10 pm
views : 470
Location : Parliament Lodges
Islamabad- Former MQM Pakistan Convenior Dr.Farooq Sattar Media Talk
اسلام آباد ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کا مقصد ایم کیوایم ختم کرنا ہے، فاروق ستار
ڈاکٹر فاروق ستار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اپنی کنوینر شپ کے
خلاف دیئے گئے فیصلے کو سیاہ، غیر منصفانہ اور غیر آئینی قرار دے دیا۔
اسلام آباد میں ایم کیو ایم پاکستان (پی آئی بی) کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ
مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ماضی میں مولوی تمیز
الدین خان کیس کا فیصلہ جسٹس منیر نے دیا تھا، اسی طرح اور بہت سے عدالتی
فیصلے پاکستان کی تاریخ میں ہوئے ہیں، جن کا آج تک حوالہ دیا جاتا ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ 'میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جسٹس منیر کے فیصلے کی
طرح جسٹس (ر) سردار رضا اور ان کے 4 یا 5 رکنی الیکشن کمیشن نے جو فیصلہ
دیا ہے، وہ پاکستان کے انتخابی یا الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے حوالے سے سیاہ
فیصلے کے طور پر یاد رکھا جائے گا'۔
ڈاکٹر فاروق ستارنے کہا کہ انٹرا پارٹی تنازع پر فیصلہ دینا الیکشن کمیشن
کا کام نہیں ہے، 'میرے منشور کی تشریح الیکشن کمیشن نہیں کرسکتا، یہ کام
ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کرسکتی ہے۔ 'مجھے 23 اگست 2016 کو بانی ایم کیو
ایم کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے'۔
سابق ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر نے کہا کہ 'اس فیصلے کا مقصد مائنس
ون نہیں بلکہ ایم کیو ایم کا خاتمہ ہے، الیکشن کمیشن نے باقی سب کو عدالت
بھیجا ہمیں گھر بھیجنے کی تیاری ہورہی ہے'۔
ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ 'ایم کیو ایم کے کارکنوں اور ووٹرز سے پتنگ چھین
کر بہادرآباد کے ساتھیوں کو دی گئی ہے جبکہ کارکنوں کی اکثریت بہادرآباد
والوں کے ساتھ نہیں ہے'۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ 'آج کے فیصلے سے مجھے 9 نومبر 2016 کے فیصلے کی
بھی سزا دی گئی، جب میں نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کے ساتھ
الحاق کرنے کی کوشش کی تھی'۔