کراچی ، جماعت اسلامی کی جانب سےکے الیکٹر ک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
شہر قائد میں جماعت اسلامی کی جانب سے اذیت ناک لوڈشیڈنگ ، اربوں روپے کی
لوٹ ماراورنیپرا،کے الیکٹرک وحکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف شہر بھر میں 50اہم
مقامات پراحتجاجی مظاہرے کیا گیا۔
کراچی کے علاقے لسبیلہ چوک پر واقع مسجد نعمان کے باہر جماعت اسلامی کراچی
کے تحت کے الیکٹر ک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ احتجاجی مظاہر ے میں
شہر یوں سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مظاہرے کے دوران مظاہرین نے
کے الیکٹر ک انتظامیہ اور سندھ حکومت کے خلاف شد ید نعرے بازی کی اور لوڈ
شید نگ کو جلد ازز جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔مظاہرے میں بچوں نے بھی شر
کت کی۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے
الیکٹرک کی اذیت ناک لوڈ شیڈنگ ،اووربلنگ ،ڈبل بنک چارجز ،میٹر رینٹ اور
دیگرمدات میں عوام سے اربوں روپے کی لوٹ مار کے خلاف اور شہریوں کو ریلیف
کی فراہمی کے لیے 20اپریل کووزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ اور 27اپریل کو کراچی
میں ہڑتال کریں گے ،جماعت اسلامی کے الیکٹرک کا مسئلہ پر امن طورپر حل
کرنا چاہتی ہے لیکن ہم لوٹ کھسوٹ کے نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے ،
گرفتاریوں ، پولیس فائرنگ اور شیلنگ سے خوف زدہ نہیں ہیں ،ہر صورت ریڈ زون
کے اندر داخل ہوں گے ، وزیر اعلیٰ فیصلہ کریں کہ وہ مذاکرات کریں گے یا
پولیس سے فائرنگ کروائیں گے۔وزیر اعلیٰ وفاقی حکومت کو صرف خطوط لکھ کر خود
کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ہمیشہ
کے الیکٹرک تحفظ فراہم کیا۔کے الیکٹرک کراچی کے صارفین سے برسوں سے فرنس
آئل کی قیمت کے بل وصول کررہی ہے لیکن آج گیس کی کمی کا بہانہ بنا کر
شہریوں کو بد ترین لوڈ شیڈنگ سے دوچار کررکھا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے بعد نماز جمعہ جماعت
اسلامی کے تحت جامع مسجد نعمان لسبیلہ چوک پر کے الیکٹرک کی جانب سے
اووربلنگ ، پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود مطلوبہ بجلی پیدا نہ کرنے ، سخت
گرمی میں عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کرنے اور کے الیکٹرک ،
نیپرا و حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف مرکزی احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ ہم برسوں سے کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ، ہم نے نیپرا کے
اندر بھی بطور فریق شریک ہوکر کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑاہے اور کے الیکٹرک
کو بے نقاب کیا ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے باعث ہی
نیپرا نے ابھی تک کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافہ نہیں کیا ہے لیکن افسوس کہ
کے الیکٹرک کے خلاف شکایا ت کا ازالہ بھی نہیں کیا گیا۔ ہمیشہ کے الیکٹرک
کو تحفظ فراہم کیا گیا اور ہر دور حکومت میں کے الیکٹرک کو اپنی من مانی
کرنے اور عوام پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی
جاری ہے۔ کے الیکٹرک کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس پر دیا جانے والا دھرنا مسائل
کے حل تک جاری رہے گا، حکومت کی طرف سے کوئی بھی سنجیدہ کوشش کی گئی تو ہم
ضرور تعاون کریں گے' صرف دھرنا ختم کرانے کے لئے یا صرف زبانی مذاکرات کا
کوئی فائدہ نہیں ہوگا ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ذمہ داری ہے کہ
وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور یقین دہانی کرائیں کہ کے الیکٹرک کی لوٹ مار
کا حساب لیا جائے گا اور کراچی کے شہریوں کو کے الیکٹرک کے مظالم سے نجات
دلائی جائے گی۔
اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔ شرکاء نے
کے الیکٹرک کے خلاف زبردست نعرے بھی لگائے جن میں یہ نعرے شامل تھے چور ہے
چور ہے کے الیکٹرک چور ہے ، کراچی کے عوام کے ساتھ ناروا سلوک بند کرو ،
لوڈشیڈنگ بند کرو ، میٹر رینٹ نامنظور ، اوور بلنگ نامنظور ،بجلی چوری
نامنظور جبکہ اس موقع پر شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز بھی
اٹھائے ہوئے تھے ، جن پر کے الیکٹرک کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔