اسلام آباد ، چیئر مین قومی احتساب بیورو جسٹس جاوید اقبال کی صدارت نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس
قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جنا ب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کے ایگزیکٹو
بورڈ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی چئیرمین نیب ، پراسیکیوٹر جنرل نیب
اکاؤنٹبلیٹی اور سینئر افسران نے شرکت کی۔
ترجمان کے مطابق چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبا ل نے 11 اکتوبر2017 کو
اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعداپنے پہلے خطاب میں نیب کے تمام
افسران سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ وہ بدعنوان عناصر کے خلاف قانون
کے مطابق بلا تفریق کارروائی کریں خصوصاََ اشتہاری اور مفرور ملزمان کی
گرفتاری کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔
نیب نے چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال کے 11 اکتوبر2017 کے احکمات کی
روشنی میں اب تک 226 افراد کو گرفتار ، 872 شکایات کی جانچ پڑتال، 403
انکوائریاں اور82 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 217 بدعنوانی کے ریفرنس
متعلقہ معزز احتساب عدالت میں دائر کئے گئے جن میں سے39 افراد کو متعلقہ
احتساب عدالت نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔
ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ملزم مظفر نشاط کے خلاف بدعنوانی
کے 2 ریفرنسز میں 2001 اور 2004 میں احتساب عدالت میں پیش کئے گئے۔ ملزم
مظفر نشاط 001 2سے ہی اشتہاری تھا۔ ملزم کو 2004 ? میں احتساب عدالت نے اس
کی عدم موجودگی میں نیب کے قانون 31۔اے کے تحت سزا سنائی۔ نیب نے مفرور
ملزم کو قانون کے مطابق گرفتار کر کے کاروائی کا آغاز کیا۔ ملزم مظفر نشاط
نے نیب کو لوٹی گئی رقم واپس کرنے کیلئے نیب سے پلے بارگین کی درخواست دی۔
نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ملزم مظفر نشاط کی پلی بارگین کی
درخواست متعلقہ معززاحتساب عدالت میں نیب آرڈینینس کے 25۔بی کے تحت پیش
کرنے کی منظوری دی۔ جس کی متعلقہ معززاحتساب عدالت حتمی منظوری دے گی۔
چئیرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش
نہیں کہ نیب کا سورج صرف پنجاب میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں چمک رہا ہے
تا کہ کرپشن کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیا جائے۔