کراچی،گلشن اقبال میں پی پی اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم کئی زخمی
گلشن اقبال میں جلسہ گاہ کے تنازع پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم ہوا ہے جس کے دوران دونوں جانب سے پتھراؤ سمیت ہوائی فائرنگ بھی کی گئی نتیجے میں متعدد کارکنان زخمی ہوگئے۔
گلشن اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب واقع حکیم محمد سعید گراؤنڈ میں 12 مئی کو جلسہ کرنے کے لیے کیمپ لگانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا ہے,تصادم کے درمیان دونوں جانب سے پتھراؤ ہوا، ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا جب کہ ہوائی فائرنگ بھی ہوئی,شرپسندوں نے پارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکلیں نذر آتش کردیں اور دو گاڑیوں کو بھی آگ لگادی، کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑے اور انہیں نقصان پہنچایا۔
جھگڑے کے دوران بار بار دونوں طرف سے کارکنان گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک دوسرے پر پتھر پھینکتے رہے اور ڈنڈوں سے حملے کرتے رہے,پولیس کی جانب سے شرپسندوں پر قابو پانے کے لیے واٹر کینن بھی منگایا گیا لیکن اس کا استعمال نہیں کیا جاسکا,جھگڑا مزید بڑھا تو شرپسندوں نے پی ٹی آئی کے کیمپ کو آگ لگادی، پولیس نے دونوں جماعتوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ اور پی پی کے رہنما مراد علی شاہ نے جھگڑے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے حکیم سعید گراونڈ میں جلسے کی باقاعدہ اجازت لی ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے اس گراؤنڈ پر قبضہ کرکے سیاست کرنا مناسب نہیں.
تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے کہا کہ ہم نے وہاں پہلے سے کیمپ لگایا ہوا تھا، پی پی کی سندھ میں حکومت ہے اس لیے انہوں نے ڈپٹی کمشنر کے ذریعے یہاں جلسے کا اجازت نامہ حاصل کرلیا جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں،علی زیدی نے پیپلز پارٹی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اب کے پی کے میں جلسہ کرکے دکھائے۔