div> سابق وزیراعظم سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما
سینیٹر پرویز رشیدمیڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف ،
مریم نواز،اور کیپٹن صفدر کا عزم اسی طرح مضبوط ہے جیسے گرفتاری سے پہلے
تھا،25 جولائی کو شیر پر مہر لگا کر عمران خان کی تمام سازشوں کو ناکام
بنانا عوام کا حق ہے۔
مریم نواز نے ملاقات کے دوران بتایا کہ ایک جیل میں ہونے کے باوجود ان کی
والد سے آج پہلی ملاقات کرائی گئی، سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ اس بات پر
دکھ اور تکلیف ہے کہ بیٹی کو باپ سے ملنے نہیں دیا جارہا۔ ہر قیدی کو حق
ہوتا ہے کہ دن میں جیل کے اندر آزادانہ نقل و حرکت کرسکے، سزا میں کہیں
نہیں لکھا گیا کہ نواز شریف کو قید تنہائی میں رکھا جائے گا۔
پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ہمارے پارٹی امیدوار قمرالسلام راجہ کو گرفتار
کیا گیا، کیا ایسے انتخاب کو انتخاب کہا جاسکتا ہے، یہ الیکشن نہیں سلیکشن
کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔شفاف انتخابات کرائے نہیں جاسکتے تو انتخابات کا
ڈرامہ کیوں رچایا جا رہا ہے، ایک فہرست بنالیں کہ یہ لوگ قومی اسمبلی کے
ممبر ہیں اور یہ وزیراعظم ہیں۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے پرویز رشیدنے کہااحتساب عدالت نے پوچھ گچھ کے
لیے عمران خان کو طلب کیا لیکن ان کی جانب سے جواب آیا کہ وہ انتخابی مہم
میں مصروف ہیں اس لیے نہیں آسکتے جب کہ عمران خان کو نیب کے سامنے پیش نہ
ہونے کی سہولت دی گئی۔ جو سہولت عمران خان کو دی گئی ہے وہ پاکستان کے تین
بار منتخب وزیراعظم سے کیوں چھینی گئی،ایک مقدمہ چار بار چلتا ہے اور چار
سزائیں سنائی جاتی ہیں، دوسری جانب کچھ مقدمات سالوں چلتے ہیں۔
پرویز رشید نے کہا کہ عمران خان اپنے فیصلے خود لکھتے ہیں کہ فلاں تاریخ کو
عدالت آؤں گا اور فلاں کو نہیں آسکتا، یہ ناانصافی اس لیے ہے کہ نواز شریف
کہتے ہیں ووٹ کو عزت دو اور یہ مطالبہ کرنا کیوں جرم بنا دیا گیا ہے۔ووٹ
کو عزت دو کا نعرہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ہے، نوازشریف پر کوئی
جرم اور بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی