الیکشن 2018 کے کئی بڑے اپ سیٹ
ہمیشہ کی طرح پاکستانی سیاست نے اس بار بھی الیکشن میں اپنا منفرد رنگ
دکھایا اور سیاسی بساط پر کچھ ایسے مہرے کھسکائے کہ کئی بڑے بڑے برج الٹ
گئے، کچھ نئے اور غیر معروف نام ایوان کی فہرست کا حصہ بنے تو کچھ بڑے نام
ناکامی کی گرد کی دیوار کی اوٹ میں آ کر آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار بھی کئی ایسے معروف نام کامیابی کا زینہ چڑھنے
سے محروم رہ گئے جو چند ماہ قبل ایوان کی سیڑھیاں اس عزم اور خام خیالی کے
ساتھ اترے تھے کہ تین ماہ کے بعد یہی ایوان ایک بار پھر ان کا منتظر ہوگا ،
مگر شومئی قسمت ایسا ممکن نہ ہوسکا اور وہ کامیابی کی حسرت دل میں لئے بے
نیل و مرام گھر کو لوٹ گئے۔ ذیل میں ایسے ہی چند معروف سیاستدانوں کا تذکرہ
کیا جا رہا ہے جو چند ماہ قبل تک سیاسی افق پر بلند پرواز میں محو تھے
اتحادی سیاست کے ماہر اور مسلم لیگ ن کے کٹر حمایتی جے یو آئی ف کے سربراہ
مولانا فضل الرحمٰن اس بار دہرے محاذ پر پسپا ہوئے۔ وہ اس بار کے پی کے کی
دو نشستوں پر ایم ایم اے کی جانب سے امیدوار تھے مگر کپتان کے ایک ناتجربہ
کار کھلاڑی نے انہیں کلین بولڈ کر دیا اور وہ بڑے مارجن سے دونوں سیٹیں
ہار گئے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت کو
سنبھالےن والے سابق وزیر پی آئی اے شاہد خاقان عباسی بھی اس بار ایوان کا
منہ نہ دیکھ سکے۔ شاہد خاقان عباسی نے اس بار این اے 53 اور این اے 57
دونوں نشستوں سے کاغذات جمع کرائے تھے مگر انھیں بھاری مارجن سے شکست کا
منہ دیکھنا پڑا۔
اے این پی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور اس بار این اے 31 سے تحریک انصاف
کے امیدوار شوکت علی کے مدمقابل قسمت آزما رہے تھے مگر ان کی قسمت نے ساتھ
نہ دیا اور وہ بھاری مارجن سے الیکشن ہار گئے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس بار لوئر دیر سے انتخابات میں حصہ لینے
کا فیصلہ کیا تھا ۔ این اے 7 سے انتخابات میں حصہ لینے والے اس سینئر
سیاستدان کو پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد بشیر خان نے تقریباً 17
ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست دی۔
سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو بھی اس بار الیکشن میں کامیابی کا
منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ مسلم لیگ ن سے اختلافات کے باعث انہوں نے پارٹی
سے ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا اور آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا، مگر وہ تحریک
انصاف کے امیدوار غلام سرور خان سے بھاری مارجن سے مات کھا گئے، یہ ان کی
اپنے آبائی حلقے میں پہلی شکست تھی۔
اپنی الگ جماعت بنانے والے مصطفیٰ کمال کو بھی اس الیکشن میں ایوان میں
داخلے کا این او سی نہ مل سکا۔ پاک سرزمین پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن
میں حصہ لینے والے مصطفیٰ کمال کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکے ۔
سیاسی مخالفین پر اپنی ترش زبانی کے وار کرنے کے حوالے سے مشہور عابد شیر
علی اس بار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔ عابد شیر علی کو ان کی آبائی نشست
پر بھی اتنے زیادہ ووٹ نہ مل سکے جو انہیں ایک بار پھر ایوان میں پہنچا
سکیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تحریک انصاف کے علیم خان کو پچھاڑ
دیا، علیم خان صوبائی اسمبلی کی نشست بھی ہار گئے، جبکہ این اے 125 میں
تحریک انصاف کی مضبوط امیدوار ڈاکٹر یاسمین بھی ہارگئیں، انہیں وحید عالم
کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ اُدھر این اے 158 ملتان سے سابق وزیراعظم یوسف رضا
گیلانی کو تحریک انصاف کے امیدوار محمد ابراہیم خان کے ہاتھوں شکست کا
سامنا کرنا پڑا۔
سیاست میں بڑے برج الٹنا اب ایک روایت سے بنتی جا رہی ہے۔ عوام کیلئے شاید
یہ ایک معمول کی بات ہو مگر کسی سینئر سیاستدان کا یوں اپنی آبائی سیٹ سے
شکست کھا لینا یا عوام کا اس کے سر سے دست شفقت اٹھا لینا عام بات نہیں۔
مگر یہ سیاستدانوں کیلئے ایک سبق ضرور ہے کہ اگر انہیں کامیابی حاصل کرنا
ہے تو عوام کی سچے دل سے خدمت کرنا ہوگی۔