لاہور، ملک میں سب سے زیادہ تنخواہ جج کی ہوتی ہے، چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ فیصلوں میں تاخیر نظامِ
انصاف میں ناسور کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس معاشرے میں ناانصافی ہو گی
وہ قائم نہیں رہ سکتا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام لاہور
کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف
پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ میرے باپ نے بڑی
محنت سے مجھے حلال کا رزق کھلایا ہے، پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ ملک
نہ ہوتا تو چھوٹا موٹا افسر ہوتا، میں آج جو کچھ ہوں، اپنے پروفیشن کی وجہ
سے ہوں۔
چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ جس نظام کا ڈھانچا جھوٹ پر کھڑا ہو وہ
کیا ڈلیور کرے گا، جس معاشرے میں بے انصافی ہو گی وہ قائم نہیں رہ سکتا اور
جس معاشرے میں جھوٹ سرائیت کر جائے وہ ملک کیا ترقی کرے گا۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ملک
خوش نصیب لوگوں کو ملتا ہے بڑے بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے پاس اپنا ملک
یا قوم نہیں ہوتی، پاکستان بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا یہ ہمیں تحفے یا
خیرات میں نہیں ملا، اس ملک کے حصول کے پیچھے تحریک ہے جس میں بڑی قربانیاں
شامل ہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہے کہ کیا ہم اس ملک کی قدر
کررہے ہیں؟ یہ ملک ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی پوری ذمہ داری انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے
ریاستی عہدے میں سب سے زیادہ تنخواہیں ججز لے رہے ہیں تو ہمیں گریبان میں
جھانکنا ہے کہ کیا آپ اتنے پیسوں کا کام کرکے جاتے ہیں؟ کیا یہ بے انصافی
نہیں کہ ججز اتنے دن مقدمات کی شنوائی نہیں کرتے، مقدمات ججز کے پاس التوا
میں رہتے ہیں اگر جج اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو تاخیر ہوگی اور
لوگوں کا اعتماد اور بھروسا اٹھ جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں، کیا اسپتالوں
کی ایمرجنسی میں علاج ومعالجے کے بنیادی حقوق مل رہے ہیں؟ کیا منرل واٹر
کے اندر کیلشیئم اور میگنیشئم پوری مقدار میں دیا جارہا ہے؟ آج منشاء بم
جیسے لوگ جائیدادوں پر قبضے کر لیتے ہیں اور سمندر پار پاکستانیوں کی
جائیدادوں پر قبضے کیے جارہے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ریاست کو آگاہ کرنے کے لیے عدالت ایکشن لیتی ہے،
عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، ہم نئے سسٹم کو اپنانے کے لیے تیار
نہیں ہیں، تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس مزید نچلی سطح پر جائیں اور ججز
مقدمات کی تاریخیں کم کریں، اے ڈی آر کے سسٹم کو سلیبس کا حصہ بنایا جائے،
میں قوم کو مایوس نہیں کرنا چاہتا آنے والے وقت میں جلد انصاف ملے گا۔