اسلام آباد، کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا
مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام
نے ایک مرتبہ پھر بھارتی تسلط کو زبر دست طریقے سے مستر د کردیا
ہے،بلدیاتی انتخابات میں 4 فیصد سے بھی کم ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال
کیا۔بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات بری طرح
ناکام ہوگئے اور زیادہ تر ووٹرز نے پولنگ اسٹیشن کا رخ کرنے سے گریز کیا۔
میڈیا
رپورٹس کے مطابق 4 مراحل پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کے آخری حصے میں سری
نگر اور ملحقہ علاقوں میں ہونے والی پولنگ میں 4 فیصد سے بھی کم رجسٹرڈ
ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
اس موقع پر بھارتی حکومت کے
مخالف حریت رہنماؤں کی کال پر وادی میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ
حکومت کی حمایتی جماعتیں مثلاً نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے
بھارتی آئین میں کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر مذکورہ انتخابات کا بائیکاٹ
کیا۔
کٹھ پتلی انتخابات کا پوری کشمیری قوم نے بائیکاٹ کیا ہے،ہر جگہ
پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ہیں،ہم کشمیری عوام کو خراج تحسین پیش
کرتے ہیں،مودی سرکار جو کر رہی ہے وہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
حالیہ انتخابات سے کشمیری عوام نے ثابت کردیا ہےکہ وہ اب بھارت کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
اقوام متحدہ ان انتخابات کے رزلٹ کو دیکھے کہ اب کشمیری عوام بھارت کے ساتھ بالکل بھی نہیں رہنا چاہتے۔
بھارت کا دعویٰ تھا کہ ان انتخابات سے نچلی سطح پر کشمیر میں بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔
تاہم
کشمیر میں موجود سیاسی اور عسکری جماعتوں نے فوجی جارحیت کے سائے تلے ہونے
والے ان انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا۔