div name="str" align="right">وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں ایک روپے 27 پیسے فی یونٹ اضافے
کی منظور دے دی۔
وفاقی انفارمیشن سروسز اکیڈمی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے
کا فیصلہ تو ایک منٹ میں ہوسکتا تھا، بجلی کی مد میں سالانہ خسارہ 453 ارب
روپے تھا، سارا خسارہ عوام کی جیب سے لیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد
عمر کا کہنا تھا 300 سے 700 یونٹ والے صارفین کیلئے نرخ میں 10 فیصد اضافہ
کیا، 700 سے اوپر یونٹ والے صارفین کیلئے 15 فیصد اضافہ کیا ہے، ہم نے
برآمدات میں اضافہ کرنا ہے، یہ پاکستان کا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔
اسد عمر نے مزید کہا کہ زراعت کیلئے رعایتی نرخ 5 روپے 35 پیسے فی یونٹ طے
کر لیے ہیں، 300 یونٹ سے کم والے ایک کروڑ 76 لاکھ گھریلو کنکشن پر کوئی
اضافہ نہیں کیا، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق 95 فیصد صارفین پر نہیں
ہوگا، جنرل سروسز کیٹگری کیلئے بجلی کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں، سابق
حکومت ملک کو تباہ حال چھوڑ گئی۔