چیف
جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے امل ازخود نوٹس کیس میں حکم دیا ہے کہ
کراچی میں قائم تمام پرائیویٹ اسپتالوں کی ریٹ لسٹ عدالت میں پیش کی جائے۔
سپریم
کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کراچی رجسٹری میں امل ازخود نوٹس کیس کی سماعت
کی،دس سالہ مرحومہ کے والد نے عدالت کو بتایا کہ زخمی بیٹی کو نزدیکی
پرائیویٹ اسپتال لے کر گئے تو وہاں کے عملے نے فیس کے بغیر علاج کرنے سے
انکار کردیا جس کے سبب بچی کی ہلاکت ہوئی۔
عدالت نے تمام نجی اسپتالوں
سے ریٹ لسٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ بتایا جائے آکسیجن, وینٹی لیٹر ودیگر
سہولیات کے ریٹ کیا ہیں؟ سپریم کورٹ نے تمام نجی اسپتالوں کو تفصیلات ہفتہ
کو جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ امل تو چلی گئی مگر اسکی قربانی رائیگاں نہیں جانے دیں گے، ہم اپنی بچی کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔
ذرائع
ابلاغ عامہ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امل کے والد کا کہنا تھا کہ
نیشنل میڈیکل سینٹر کی انتطامیہ نے ہماری تمام باتوں کو مسترد کردیا ہے،وہ
لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔