Oct 29, 2018 06:46 pm
views : 390
Location : Supreme Court Of Pakistan
Islamabad- SC suspends IGP Islamabad's Transfer Notification
اسلام آ باد، چیف جسٹس نے وزیراعظم کے زبانی حکم پر ہونے والا آئی جی کا تبادلہ روک دیا
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیراعظم عمران خان کے زبانی حکم پر ہونے والا آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روک دیا۔
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے آئی جی کی تبدیلی کی سمری عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے زبانی احکامات پر تبادلہ کیا گیا۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ تبادلے کی اصل وجہ کیا ہے، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خود عدالت کو حقائق بتائیں۔
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ آئی جی کے تبادلے کا مسئلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے، وزیراعظم آفس آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹبلشمنٹ کو کہا کہ کیوں نہ آپ کا بھی تبادلہ کر دیا جائے، کیا آپ کو کھلا اختیار ہے جو چاہیں کریں، وزیراعظم سے ہدایت لے کر جواب داخل کریں، کیا یہ نیا پاکستان آپ بنا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد کا تبادلہ روکتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کا نوٹیفکیشن معطل کردیا، جب کہ معاملے پر وفاقی حکومت سے بدھ تک جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تبادلے کا حکم قانون کے مطابق نہیں جبکہ جائزہ لیا جائے گا تبادلہ بدنیتی پر مبنی تو نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی وجوہات پر آئی جی جیسے افسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا، ریاستی اداروں کو اس طرح کمزور اور ذلیل نہیں ہونے دیں گے، حکومت وجوہات بتائے آئی جی کو کیوں ٹرانسفر کیا، سنا ہے کسی وزیر یا سینیٹر کے بیٹے کا مسئلہ چل رہا تھا، کیا ملک میں قانون کی حکمرانی ایسے قائم ہوگی؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور میں بھی پولیس افسر کو تبدیل کیا گیا، پنجاب حکومت سے بھی تفصیلات لیکر آگاہ کریں، افسران کو اعتماد دینا چاہتے ہیں، اے ڈی خواجہ کیس میں عدالت واضح احکامات دے چکی ہے، حکومت کی من مرضی سے افسران کے تبادلے نہیں ہو سکتے، عدالت ایسی باتیں برداشت نہیں کرے گی، تبادلے کی وجوہات سے عدالت کو آگاہ کریں۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا فون اٹینڈ نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد جان محمد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ سینیٹر اعظم سواتی کا اپنے فارم ہاوٴس کے قریب خیمہ بستی میں مقیم افراد سے تنازع چل رہا تھا۔ اعظم سواتی ان خیموں میں مقیم افراد کو بے دخل کرنے کے لیے مبینہ طور پر پولیس پر دباؤ ڈال رہے تھے۔