Oct 30, 2018 08:51 pm
views : 470
Location : National Assembly
Islamabad- National Assembly Session, Opposition Walkout
اسلام آباد، قومی اسمبلی، اسد عمر کے فضل الرحمٰن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن کا احتجاج
div> وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی جانب سے جمعیت علمائے اسلام (ف)
کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو گمراہ کہنے پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے
قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔
وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کو کسی نے کوئی غلط خبر دی اور میرے
والد صاحب کے بارے میں گمراہ کیا ہے، میرے والد نے جھنگ پر قبضہ کیا آج بھی
تاریخ گواہ ہے، میرے والد 1971 میں جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے اور چھمب
جوڑیاں میں تعینات تھے، انہوں نے چھمب جوڑیاں پر قبضہ کیا جو آج بھی
پاکستان کے پاس ہے، فوج کے سرینڈر سے میرے والد کا کوئی تعلق نہیں تھا،
جنرل نیازی کا عمران خان سے کوئی تعلق نہیں، وہ میانوالی سے ضرور تھے لیکن
عمران خان کا ان سے کوئی رشتہ نہیں۔
اسد عمر اظہار خیال کرکے ایوان سے چلے گئے، تاہم جے یو آئی ف کے اراکین نے
اسد عمر کے الفاظ پر ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن
کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گمراہ کا لفظ غیر پارلیمانی نہیں ہے،
مولانا فضل الرحمن اس ایوان کا حصہ رہ چکے ہیں ان کا سب احترام کرتے ہیں،
اگر اراکین کی دل آزاری ہوئی تو میں وزیر خزانہ کی جانب سے ان الفاظ کو
واپس لیتا ہوں، اس پختہ عمر میں فضل الرحمن کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔
تاہم اپوزیشن نے شاہ محمود کی وضاحت قبول نہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کی عدم
موجودگی پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا۔
خورشید شاہ نے کہا کہ ہم صرف وزیر خزانہ کا بھاشن سننے نہیں آئے، وزیر
خزانہ نے بھاشن دیا اور چلے گئے، بات کر کے چلا ہی جانا تھا اس ایشو پر بحث
کیا ضرورت تھی، ان کے پاس اتنا ٹائم نہیں کہ جس کی وجہ سے وزیر بنے اس
ادارے کو ٹائم نہیں دے رہے، اسد عمر کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کے بارے
میں گمراہ کا لفظ استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔