اسلام آباد، احتساب ہو لیکن انتقام نہ ہو، سابق وزیر اعظم
پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہم احتساب سے نہیں گھبراتے اور ہم چاہتے ہیں کہ احتساب ہو، انتقام نہ ہو۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لاہور سلیم شہزاد کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہورہا ہے اور بات بڑی سیدھی ہے کہ اگر آپ بولو گے تو نیب کا کیس بن جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق کے طور پر اٹھایا ہے اور تمام جماعتوں نے مل کر اس تحریک کو پیش کیا ہے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ واضح ہوگیا کہ نیب کیا کر رہا ہے اور اسے کن مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
پریس کانفرنس میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ آج لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جارہیں، ان کی بے عزتی کی جارہی اور یہ تاثر دیا جارہا کہ یہ لوگ بدعنوان ہیں۔
ان کا کہنا تھا اس وقت صرف ایک جماعت پاکستان مسلم لیگ کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا، صرف مفروضات کی بنا پر الزامات لگائے جارہے، ہم احتساب سے نہیں گھبراتے، ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں احتساب پاکستان مسلم لیگ(ن) سے شروع ہو لیکن احتساب ہو انتقام نہ ہو اور اگر انتقام لینا ہے تو وہ بھی لے لیں ہم نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقام کا بھی سامنا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے ڈی جی نے جو بیان دیا اس میں کوئی حقیقت نہیں، کیا نیب کو اجازت ہے کہ وہ اس قسم کے معاملات پر ٹی وی بات کرے، ہمیں حکومت کی ایما پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آشیانہ کیس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا جبکہ اس کیس کی حقیقت یہ ہے کہ اس کمپنی کے ٹھیکے کو منسوخ کیا گیا جو بلیک لسٹ تھی اور نیب سے پلی بارگین کرچکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک کرپٹ بلیک لسٹڈ کمپنی کا ٹھیکا منسوخ کیا اور اس میں حکومت کا کوئی نقصان یا پیسہ خرچ نہیں ہوا اور یہ آشیانہ کیس کی حقیقت ہے۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ٹھیکا قانون کے مطابق منسوخ کیا اور اینٹی کرپشن سے کمپنی کی تحقیقات کے بعد یہ کام کیا گیا جبکہ اسی کمپنی کو بعد میں پشاور بی آر ٹی کو دیا گیا جو منصوبہ 30 ارب سے 70 ارب تک تجاوز کرگیا۔
انہوں نے کہا کہ میری گزارش ہے کہ نیب کو اگر تحقیق کرنی ہے اور قائد حزب اختلاف کو گرفتار کرنا ہے تو کچھ تو ثبوت اور حقائق ہوں لیکن اس کے باوجود حکومتی عہدیدار ٹی وی پر آکر ایسی گفتگو کرتا ہے، جس کا کوئی دفاع نہیں کرسکتا۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس طرح کی خبریں بھی چل رہی ہیں کہ ڈی جی نیب کی ڈگری بھی جعلی ہے، لہٰذا میں درخواست کروں گا کہ وہ اپنی ڈگری کی تصدیق کے لیے اسے میڈیا کے حوالے کردیں تاکہ ایچ ای سی بتائے کہ یہ اصلی ہے یا جعلی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈی جی نیب کی ڈگری جعلی ہے تو ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حقائق سامنے آئیں اور اگر نیب نے میڈیا ٹرائل کرنا ہے تو عوام کے سامنے کیا جائے ایک طرف ہمیں بٹھایا جائے اور دوسری طرف بیٹھ کر ہم سے جواب لیا جائے، پھر سب سچ عوام کے سامنے آجائے گا۔