div>نیب
نے آشیانہ اسکینڈل کیس کے ملزم شہبازشریف کو سید نجم الحسن کی عدالت میں
پیش کیا گیا۔عدالت میں ملزم شہباز شریف کی پیشی پر کمرہ عدالت میں وکلا کے
نعروں پر معزز جج نے کہا کہ اس شور شرابے میں کیسے کیس کی سماعت کروں گا۔
سماعت کے آغاز پرنیب کے وکیل نے شہبازشریف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا
کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ریمانڈ میں اسمبلی اجلاس کی وجہ سے تفتیش نہ
ہوسکی۔نیب نے شہبازشریف کے جسمانی ریماند میں 15 دن کی توسیع کی استدعا کی،
شہبازشریف نے عدالت میں کہا کہ حلفاً کہتا ہوں پروڈکشن آرڈرکے دوران بھی
مجھ سے تفتیش کرتے رہے۔
شہبازشریف کے وکیل نے دوران سماعت دلائل دیتے
ہوئے کہا کہ نیب نے آج تک کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیا، جیسے تفتیش کی
اس کے بعد جسمانی ریمانڈ کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔نیب کے وکیل نے عدالت کو
بتایا کہ احد چیمہ نے ایک جعلی فزیبلٹی رپورٹ بنائی، شہبازشریف نے کہا کہ
میں نے توبتایا فزیبلٹی رپورٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں۔۔
اس سے قبل آج صبح قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کو پی آئی اے کی پرواز پی کے651 میں اسلام آباد سے لاہورلایا گیا۔