سپریم کورٹ کے حکم پرکراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ آج آرام
باغ اورلائٹ ہاؤس پرقائم تجاوزات کا خاتمہ کردیا گیا۔ دکانداروں نے رات
گئے دکانیں خالی کرنا شروع کردی تھیں۔
کے ایم سی کی جانب سے صبح دس بجے آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے تحت لائٹ ہاؤس
میں دوسوچھیانوے دکانیں گرائی جائیں گی، اس کے علاوہ آرام باغ کے اطراف
میں بھی سودکانوں کومسمار کردیا گیا۔
کے ایم سی نے کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمنٹنے کیلئے سیکیورٹی
اداروں سے نفری کوطلب کررکھا تھا۔ عملے کو صبح 10 بجے کے ایم سی ہیڈ آفس
پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
رات گئے کے ایم سی کی جانب سے صدراوراطراف کےعلاقےمیں تجاوزات کےخلاف
کارروائی سے قبل لائٹ ہاؤس سےدکانداروں نےدکانیں خالی کرناشروع کردی تھیں۔
اس موقع پر میونسپل کمشنر سیف الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ ہے اندرون کراچی کی بہت
خراب شکل ہے، نالوں پر اور فٹ پاتھ پر تجاوزات قائم ہیں۔ آرام باغ میں
تقریباً 170 سے زائد دکانیں فٹ پاتھوں اور نالوں پر قائم ہیں۔ سپریم کورٹ
کا حکم ہے تمام نالوں اور فٹ پاتھوں کو واگزار کرایا جائے، آرام باغ میں
ایک پارک کو واگزار کرانا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور پیدل
چلنے والوں کو آسانی ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پورا لنڈا بازار نالے پر بنا ہوا ہے، جس کی وجہ سے
نالے کی صفائی نہیں ہو پاتی، تین سو کے قریب دکانوں ہیں، برسہا برس سے یہ
قائم ہیں۔