کراچی، دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،
جیل بھرو تحریک شروع کر سکتے ہیں، بلاول بھٹو
بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں حکومت کی
اتحادی، تحریک انصاف نے انہی کی مدد سے الیکشن جیتا۔ دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،
جیل بھرو تحریک شروع کر سکتے ہیں۔
سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھ
ماہ سے ہماری کردار کشی کی جا رہی ہے۔ آرٹیکل 10 اے کے مطابق فری ٹرائل
ہمارا حق ہے۔ جمہوریت میں ایسے تو نظام نہیں چل سکتا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جانتا ہوں
نیب کا قانون کالا قانون ہے۔ نیب میں اصلاحات نہ لانا پیپلز پارٹی کی بھی
ناکامی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے چیئرمین نیب نے آج تک ایکشن نہیں لیا۔
چیئرمین نیب کو خاموشی کے بجائے اپنے افسران کیخلاف ایکشن لینا چاہیے۔ اگر
چیئرمین نیب ایکشن نہیں لیں گے تو پھر ہمیں لینا پڑے گا۔
انہوں نے سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کیخلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ آغا
سراج درانی پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتا ہوں۔ انھیں گرفتار کرنے کے
بعد ثبوت اکٹھے کیے گئے۔ اگر کوئی ثبوت ہوتا تو ان کی گرفتاری کے بعد کیوں
چھاپا مارا گیا؟ چادر اور چار دیواری کو پامال کیا گیا۔ خواتین اور بچوں کو
یرغمال بنا کر بدتمیزی کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ آمدنی سے زائد اثاثوں کا الزام کسی پر بھی لگ سکتا ہے۔
آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ایسا ہی ہے جیسے پولیس کسی کی جیب میں چرس
ڈال دے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے۔ اٹھارویں ترامیم اور
جمہوریت پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم جوڈیشل ریویو میں جائیں گے
جبکہ عوام کے پاس بھی جا رہا ہوں۔ ہم اصولوں پرکھڑے رہیں گے، دھمکیوں سے
نہیں ڈرتے۔ ہم نے اس حکومت کو وارننگ دی ہے کہ وہ اٹھارویں ترامیم ریڈ لائن
کراس نہ کرے۔ لانگ مارچ سمیت تمام آپشن ہمارے پاس موجود ہے۔ حقوق کا دفاع
کرنے کے لیے جیل بھرو تحریک چلانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا جب سے میں سیاست میں ہوں دہشت گرد اور کالعدم
تنظیمیوں کیخلاف آواز اٹھا رہا ہوں۔ نیشنل ایکشن پلان میں عملدرآمد نہ کر
کے الیکشن میں تحریک انصاف کو سپورٹ کیا گیا۔ کالعدم تنظیمیوں کو این آر او
اور کوئی فیصلہ ان کیخلاف نہیں آتا جبکہ بھٹو کو پھانسی چڑھا کر دنیا کو
کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ احتساب کرنا ہے تو سب کیخلاف کیا جائے، کوئی مقدس گائے
نہیں ہونی چاہیے، قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے، یکطرفہ اور سیاسی
احتساب نہیں ہونا چاہیے۔