اسلام آباد، پاکستان میں مقامی حکومتوں کے قوانین کا تقابلی جائزہ لینے کیلئے قومی مکالمے کا انعقاد
نجی این جی او کی جانب سے پاکستان میں مقامی حکومتوں کے قوانین کا تقابلی
جائزہ لینے کیلئے قومی مکالمے کا انعقاد کیا گیا۔ قومی مکالمے میں چاروں
صوبائی حکومتوں اور گلگت بلتستان کے نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،
سماجی تنظیموں کے سربراہان، ماہرین تعلیم ، دانشوروں اور خواتین نے شرکت
کی۔
قومی مکالمے میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے
سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے معزز
نمائندے کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017ء مقامی حکوتوں کے قوانین پر سپر سیڈ
کرتا ہے ، میں سمجھتا ہوں انہوں نے بہت اہم بات کی ہے اس پر نظرثانی کی
ضرورت ہے اس لئے کہ آئین کا آرٹیکل 140 صوبے کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ
قانون بنائے گا۔ یہ بڑی دورس بات ہے۔ یہ بات کونسل آف کامن انٹرسٹ میں
اٹھائی جانی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون ہر صوبے میں ہے لیکن اس قانون کو آپریشنلائزڈ
کرنے کیلئے قوانین مرتب نہیں ہوپاتے جب تک قوانین مرتب نہیں ہوتے اس قانون
پر عملدرآمد نہیں ہوپاتا۔
فرحت اللہ بابر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور
سینیٹرز ترقیاتی کام نہیں کرواسکتے۔ یہ بلدیاتی نمائندوں کی ذمہ داری ہے۔
حکمراں جماعت کا منشور بھی یہی ہے لیکن پنجاب میں بلدیاتی نمائندوں کی
بجائے ارکان صوبائی اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دیئے جارہے ہیں۔ انتظامی اور
خزانہ کے اختیارات براہ راست مقامی حکومتوں کو ملنے چاہئیں۔