کراچی، نیوزی لینڈ کی مساجد میں دہشت گردی کے واقعہ پر مسلمانوں کی شدید مذمت
پاکستانی عوام نے نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں فائرنگ سے 49 نمازیوں کے شہید
ہونے کے واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر
میں مسلمان دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اس کے باوجود دہشت گردی کا مذہب
سے تعلق جوڑا جاتا ہے تاہم آج کے واقعے سے ثابت ہوگیا ہے کہ اصل دہشت گرد
کون ہیں۔ مسلمانوں کی عبادتگاہوں پر حملے ہورہے ہیں اس کے باوجود مذہب
اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔
کراچی کی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے ہوئے عمران عبدالرحمن کا
کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی مسجد میں دہشت گردی کے واقعے کی جتنی بھی مذمت
کی جائے وہ کم ہے۔ اس دہشت گردی کے واقعے کو اقوام متحدہ میں اچھالا جانا
چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔
ایک اور نمازی محمد جاوید کا کہنا تھا کہ نیوزی کی مساجد میں دہشت گردی کا
واقعہ نہایت ہی افسوسناک ہے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں کی عبادتگاہوں کو نشانہ
بنایا جارہا ہے ، مسلمانوں کو اب جاگنا چاہیے اور مذہب دشمنوں کے خلاف
برسرپیکار ہونا چاہیے۔ واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ کی دو مساجد النور اور لینوڈ میں
فوجی وردی میں ملبوس 28 سالہ انتہا پسند آسٹریلوی سفید فام برینٹن ٹیرنٹ کی
فائرنگ سے 49 نمازی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔