کراچی، بھارت
میں نریندر مودی کے انتخابات جیتنے کے بعد دوبارہ وزیر اعظم بننے پر
پاکستانی عوام کا ردعمل
بھارت
میں نریندر مودی کے انتخابات جیتنے کے بعد دوبارہ وزیر اعظم بننے پر
پاکستانی عوام نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقینا مودی کو
عوامی حمایت حاصل ہے تاہم انہیں چاہئے کہ دوطرفہ تعلقات کی بہتری کیلئے راہ
ہموار کریں۔
کراچی
سے تعلق رکھنے والے ایک شہری منظور علی کا کہنا تھا کہ جس طرح سے مودی
دوبارہ الیکشن جیت کر آگئے ہیں، ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے ان کو
مبارکباد بھی دی ہے لیکن یہ مبارکباد پہلے بھی ہمارے گلے پڑی ہے اور
آئندہ بھی پڑنےو الی ہے، اس سے پہلے بھی امید نہیں تھی کیونکہ وہ نہ صرف
پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا دشمن ہے۔
ایک
بینک منیجر ذوالفقار علی کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر دیکھا جائے تو یہ
پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، گزشتہ پانچ برس سب کے سامنے ہیں، ان پانچ
سالوں میں پاک بھارت تعلقات بہترنہیں رہے ہیں۔نریندر مودی بہت انتہا پسند
ہےاور وہ اسی بنیاد پر دوبارہ منتخب ہوئے ہیں جو کہ خطے کے مفاد میں
نہیں ہے۔
لاہور
کے شہری محمد بلال کا کہنا تھا کہ مودی سرکار آنے سے کوئی خاص فرق نہیں
پڑے گا،میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دونوں ممالک کی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے
کام کرنے کی ضرورت ہے۔
لاہور
کے ایک اور شہری محمد آصف کا کہنا تھا کہ کوئی بہتری آنے کی نسبت انتشار
پیدا ہونے کا خدشہ زیادہ ہے، کیونکہ نریندر مودی پاکستان سے تعلقات بہتر
کرنا نہیں چاہتے، وہ اس چیز کو کبھی اچھا نہیں سمجھتے انہوں نے پاکستان کا
ہمیشہ اپنا دشمن سمجھا ہے۔
ایک
اور شہری سہیل چیمہ کا کہنا تھا کہ امید تو رکھی ہے اچھی لیکن نریندر
مودی انتہا پسند ذہنیت کا حامل شخص ہے، نماز میں دعا کی ہے کہ اللہ اسے
ہدایت دے۔
ایک
بزرگ شہری محمد اکرم کا کہنا تھا کہ ہم یہی کہتے ہیں جنگ نہ ہو ہمیں پتہ
ہے جنگ کے بعد کیا حالات ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دونوں
وزرائے اعظم قوم کی بہتری کیلئے کام کریں۔