Nov 08, 2019 08:00 pm
views : 268
Location : Foreign Office
Islamabad- Over 10000 Sikhs to attend Kartarpur Corridor inauguration FO
div class="field-data" style="display: block;">
افغان حکومت کو کہا ہےکہ پاکستان کے سفارتی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائےترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کے سفارتی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
ترجمان
دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ
بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے 5 اگست کے اقدامات نے سنگین
انسانی بحران پیدا کردیاہے،اس کے خطے کی سلامتی پر بھی اثرات مرتب ہونگے،
مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،
انہوں نے
کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرکے
بھارت کی دو یونین ٹریڑیز میں تبدیل کرنے کے اقدام کو مسترد کرتاہے،یہ
اقوام متحدہ کی قراردادوں،عالمی قوانین اور شملہ معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی
ہے۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے جاری کیے گئے نقشہ
کو بھی مسترد کرتاہے،جس میں مقبوضہ کشمیر، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو
اپنا حصہ ظاہر کیا ہے، مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق
حل سے قبل مقبوضہ کشمیر کا نقشہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
باباگورنک کی
550ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان نے جزبہ خیر سگالی کے تحت کرتار پور میں
آنے والے سکھ یاتریوں کو پاسپورٹ کی چھوٹ دی گئی ہے، ان کو دو دنوں کے لیے
20ڈالر فیس کی بھی چھوٹ ہو گی اور حکومت پاکستان کو آنے سے 10 دن قبل
معلومات فراہم کرنے کی بھی چھوٹ دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے
افغانستان میں اپنی قونصلر سروس بند کی ہے ،تاہم مریضوں اور طالب علموں کو
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے جارہے ہیں، پاکستان کے سفارتی
عملے کو ہراساں کرنے کے معاملے پر افغان حکومت کو کہا ہےکہ پاکستان کے
سفارتی عملے کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اس پر احتجاج کیا گیا ہے، افغانستان
میں قیام امن کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں۔