اسلام آباد،ماضی میں جرنیل دس دس سال توسیع لیتے رہے لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں،چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ماضی میں جرنیل دس دس سال توسیع لیتے رہے لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں۔
چیف
جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس
منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف جنرل قمر
جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ درخواست
گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے۔
اٹارنی جنرل انورمنصور بھی
عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہم نے کل چند
سوالات اٹھائے تھے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کچھ وضاحت پیش کرنا چاہتا
ہوں، عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ صرف 11 ارکان نے
کابینہ میں توسیع کی منظوری دی، کابینہ سے متعلق نقطہ اہم ہےاس لیے اس
پربات کروں گا، رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے، حکومت نے کہیں
بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انتہائی اہم
معاملہ ہے اور اس میں آئین خاموش ہے، 5،7 جنرل دس دس سال تک توسیع لیتے
رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں، آج یہ سوال سامنے آیا ہے،اس معاملے کو دیکھیں
گےتاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے، تاثر دیا گیا کہ آرمی چیف کی مدت 3
سال ہوتی ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ نے آج بھی
ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو صفحات
آپ نے دیئے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے بتایا
کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت پرقانون خاموش ہے اور آرٹیکل 243 کے تحت
کابینہ سفارش نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ کی سفارش ضروری نہیں
تو 2 بار معاملہ کابینہ کو کیوں بھیجا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ تعیناتی میں توسیع بھی شامل ہوتی ہے۔
فروغ نسیم بھی عدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جنگی صورتحال میں کوئی ریٹائرہورہا ہو تو اسے کہتے ہیں آپ ٹہرجائیں۔
جسٹس
منصورعلی شاہ نے کہا کہ آئینی عہدے پرتوسیع آئین کے تحت نہیں،عارضی سروس
رولز کے تحت دی گئی، بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں
دی گئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی
مدت ملازمت میں توسیع کاحکم نامہ معطل کرتے ہوئے اسے عوامی اہمیت کا معاملہ
قراردیتے ہوئے ازخود نوٹس لیا تھا۔