اسلام آباد، ریلوے جلنے کے بعد شیخ رشید کو مستعفی ہوجانا چاہیے تھا، چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جیسے ریلوے
چلائی جا رہی ہے ہمیں ایسی ریلوے کی ضرورت نہیں، میرے خیال سے ریلوے کو آپ
بند ہی کردیں، آپ کا سارا کٹا چٹھا تو ہمارے سامنے ہے، وزیر صاحب بتائیں
کیا پیش رفت ہے، ریلوے جلنے کے واقعہ کے بعد تو آپ کو استعفی دے دینا چاہیے
تھا، بتا دیں 70 آدمیوں کے مرنے کا حساب آپ سے کیوں نہ لیا جائے، 70لوگ جل
گئے بتائیں کیا کارروائی ہوئی؟۔
شیخ رشید نے جواب دیا کہ 19 لوگوں کے
خلاف کارروائی کی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ گیٹ کیپر اور ڈرائیوز کو نکالا
بڑوں کو کیوں نہیں؟۔ شیخ رشید نے جواب دیا کہ بڑوں کے خلاف بھی کارروائی
ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے بڑے تو آپ خود ہیں۔
سپریم کورٹ نے شیخ
رشید سے دو ہفتوں میں ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے جامع پلان طلب
کرلیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر شیخ رشید نے عدالت کو دیئے گئے اپنے
پلان پر عمل نہ کیا تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔ سپریم
کورٹ نے ایم ایل ون کی منظوری نہ ہونے پر وفاقی وزیر اسد عمر کو بھی آ ئندہ
سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا۔
عدالت عظمیٰ میں دوران سماعت کراچی
سرکلر ریلوے کا بھی تذکرہ ہوا۔ چیف جسٹس نے شیخ رشید سے کہا کہ ریلوے جا
کدھر رہی ہے، کراچی میں کالا پل دیکھیں ،کیماڑی کے علاقے میں جائیں دیکھیں
کیا حال ہے، کراچی سرکلر ریلوے کی 38 کنال زمین عدالتی حکم پرخالی ہوئی،
ریلوے افسران جس کو چاہتے ہیں زمین دیتے ہیں، لوگ آپ کی باتیں سنتے ہیں
لیکن آپ کا ادارہ سب سے نااہل ہے۔
سپریم کورٹ نے ریلوے کو دو ہفتوں میں سرکلر ریلوے چلانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔
عدالت
نے ہدایت کی کہ سرکلر ریلوے ٹریک پر تجاوزات بنانے والوں کی بحالی کیلئے
بھی اقدامات کئے جائیں جبکہ آئندہ سماعت پر وزیر منصوبہ بندی اور سیکرٹری
بھی پیش ہوں۔
واضح رہے کہ رحیم یار خان میں 31 اکتوبر 2019 کو تیز گام
ایکسپریس میں آتشزدگی کے باعث 74 مسافر جاں بحق جب کہ 90 سے زائد زخمی
ہوگئے تھے۔
سپریم کورٹ میں پیشی کے دوران شیخ رشید احمد نے کہا کہ چیف
جسٹس پاکستان نے ریلوے کی بہتری اور بھلائی کے لیے احکامات دیے ہیں، ہم
عدالت کے مشکور ہیں، چیف جسٹس نے جو بھی ہدایت کی ہے اس پر عمل کریں گے، ان
کی ہدایت کی روشنی میں ریلوے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
شیخ رشید احمد کا
کہنا تھا کہ آرمی چیف کے معاملہ پر کہا تھا کہ سب ووٹ دیں گے اور سب نے
ووٹ دیا، جتنا عرصہ وزیرِ اعظم عمران خان رہیں گے اتنا ہی عرصہ وزیرِ اعلیٰ
پنجاب سردار عثمان بزدار بھی رہیں گے۔ قومی اسمبلی میں میرا صرف ایک ووٹ
ہے،اگر ایک ووٹ کے باوجود حکومت گرااور بنا رہا ہوں تو پھر میں کمال کا
آدمی ہوں۔