پشاور،افغان صدر کا منظور پشتین پر بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، دفتر خارجہ
پولیس کے
مطابق منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھا،
منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
دوسری
جانب قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ منظور پشتین
کو حراست میں لینے کی وجہ ان کی تحریک کا پر امن اور جمہوری انداز میں
اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے، انھیں فوری رہا کیا جائے۔
دریں اثنا
پاکستان نے افغان صدر کے ٹویٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ افغان
صدر کا بیان غیر ضروری اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں واضح مداخلت ہے۔
ایک
بیان میں ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ ہم نے صدر اشرف غنی کی حالیہ ٹویٹس
کو شدید تشویش کے ساتھ نوٹ کیا ہے اس طرح کے بیانات دونوں ہمسایہ ممالک کے
مابین اچھے تعلقات کو فروغ دینے میں معاون نہیں ہو سکتے۔ پاکستان افغانستان
کے ساتھ عدم مداخلت کے اصولوں کی بنیاد پر قریبی اور خوشگوار تعلقات قائم
رکھنا چاہتا ہے۔