Mar 06, 2020 04:14 pm
views : 272
Location : Domestic Place
Islamabad- some people are misleading the women of the nation in the name of women march, Firdous Aashiq Aiwan
اسلام آباد، عورت مارچ کے نام پر چند افراد قوم کی خواتین کو "گمراہ" کررہے ہیں، فردوس عاشق اعوان
فردوس
عاشق اعوان نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین
معاشرے کی " بااختیار" شہری ہیں اور حکومت خواتین کو معاشی محاذ پر "اہم
شراکت دار" بنانے جارہی ہے،قرآن "چادر" اور چاردیواری" کی حدود "واضح"
کرچکا ہے، اسلامی اصولوں کی روشنی میں پاکستان کی بنیاد رکھی گئی ہے، عرب
میں خواتین کو قتل کیا جاتا تھا، اس سوچ کو ختم کرنے کے لیے اسلام کا
"ظہور" ہوا۔
فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے کی
بنیاد مذہبی ثقافتی اقدار ہیں، اس طرح کے نعروں کے ساتھ ان خواتین کو کون
سی طاقت چاہیے؟، اس سوچ سے سب سے زیادہ متاثر میری بیٹیاں ہیں، ایسی سوچ کے
حامل مٹھی بھر افراد ہیں جو پوری قوم کی خواتین کو گمراہ کر رہے ہیں۔
معاون
خصوصی نے خواتین کے تحفظ میں مرد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میرا
باپ میری "طاقت" ہے۔میرا بھائی میری عزت کا "محافظ" بنتا ہے، شوہر "سرپرست"
ہوتا ہے اور بیٹا میرے بڑھاپے کا "سہارا" بنتا ہے،یہ ہمارا نظام ہے جو
مجھے تحفظ دیتا اور طاقت دیتا ہے، تو پھر مجھے اس طرح کے نعروں کے ساتھ خود
کو کمزور بناکر کون سی طاقت چاہیے جس کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے۔
فردوس
عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہمارا دین، معاشرہ اور گھر کا ماحول اس طرح کے
نعروں کی اجازت نہیں دیتا، سوچنا ہو گا کون ہماری خواتین کو گمراہ کرنے میں
مصروف ہے، خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر جو نعرے استعمال کیے جا رہے
ہیں اس سے ہماری بیٹیوں کیلئے مواقع اور کم ہو جائیں گے، عورت مارچ چادر و
چار دیواری کے تقدس کو پامال کیے بغیر نکلنا چاہیے تو اس میں کندھے سے
کندھا ملا کر شرکت کریں گے۔