Apr 20, 2020 03:49 pm
views : 273
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- SC directs Centre, provinces to submit reports on zakat fund disbursement
اسلام آباد، کورونا از خود نوٹس کیس، "کھربوں "روپے خرچ ہوچکے اور مریض صرف "5 "ہزار ہیں، چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیےازخود نوٹس کیس کی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ محکمہ زکوٰۃ نے کوئی معلومات "نہیں "دیں، جواب میں صرف قانون بتایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت زکوۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے۔ صوبائی حکومتیں زکوۃ مستحقین تک "نہیں "پہنچاتیں، اس فنڈ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر "لگ "جاتا ہے۔
اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں "شفافیت "نہیں، صرف یہ بتایا گیا کہ "امداد "دی گئی لیکن "تفصیل "نہیں دی گئی۔ کسی صوبے اور محکمے نے "شفافیت "پر مبنی رپورٹ "نہیں" دی، عوام اور بیرون ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے "کیسے "خرچ ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مزارات کا پیسہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں "خرچ "کے لیے ہوتا ہے، مزارات کی حالت دیکھ لیں سب گرنے والے ہیں ، سمجھ نہیں آتا اوقاف اور بیت المال کا پیسہ "کہاں "خرچ ہوتا ہے، بیت المال والے کسی کو فنڈ "نہیں "دیتے ، مزارات کے پیسے سے افسران کیسے "تنخواہ "لے رہے ہیں ، ڈی جی بیت المال بھی زکوٰۃ فنڈ سے تنخواہ لے رہے ہیں۔