Jun 18, 2020 11:50 pm
views : 222
Location : Domestic place
Space mission to find water on the moon
چاند پر پانی کی تلاش کا مشن اٹھارہ جون دو ہزار نو کو شروع کیا گیا
آپ سب ہی نے یہ سنا ہوگا کے چاند پر پانی پایا گیا ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہی چاند پر درجہ حرارت 123 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے تو پھر چاند پرپانی کیسے ہو سکتا ہے۔
اس ہی خیال کو سوچتے امریکہ نے 18 جون 2009 میں اپنے پہلے لونر مشن کا آغاز کیا،یوں تو اس سے پہلے بھی کئی بار چاند پر پانی کی کھوج کے مشن ہوتے رہے ہیں۔
لونر چاند پر موجود پانی کو کہاجاتا ہے،لونر مشن در اصل چاند پر پانی کی موجودگی کے ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کی غرض سے کئےجانے والے مشن کو کہتے ہیں۔
جب سائنس دانوں نے چاند پر دنیا بسانے کی امکانات ظاہر کئے تب سے ہی سب سے پہلے چاند پر پانی کی تلاش کا مشن پلان ہونے لگا ، کیونکہ پانی کے بغیر انسانی زندگی ادھوری ہے ، چاند پر پانی کی موجودگی نسبتن حالیہ دریافت رہی ہے اور مستقبل کی تحقیقات کے لئے بہت سارے دل چسپ امکانات سامنے آئے ہیں۔
نوے کی دہائی میں آخر میں ناسا کے لونر پروسپیکٹر مشن کو پولز پر اضافی ہائڈروجن ملااور جہاں ہائیڈروجن ملا وہاں پانی بھی ہوسکتا ہے۔اس کے بعد ایل سی آر او ایس ایس کو اس مشن میں داخل کیا اور انہیں ان پولز کے نیچے موجود ہائیڈروجن کی مقدار اور اقسام کا تعین کرکے اسے ڈیزائن کرنے کا کام سونپا گیا۔
ٹونی کولیپرٹ جو کہ ناسا کے ایمس ریسرچ سینٹر میں سیاروں کے سائنس دان اور ایل سی آراو ایس ایس مشن کے پرنسپل تھے وہ کہتے ہیں کہ مشن میں نو مختلف قسم کے آلات استعمال ہوئے اور نہایت ہی محنت اور جدوجہد کے بعد دوسری دھاتوں اور گیسوں کے درمیان انہیں پانی ملا جو وزن کے حساب سے پانچ فیصد تھا اس کے بعد جاکر ناسا نے یہ اعلان کیا کہ چاند پر پانی موجود ہے۔
ایل سی آراو ایس ایس مشن میں ان دس سالوں میں سائنس دانوں نے کئی مشینوں یا آلات کے ساتھ ان لونر پولز پر پانی کا مطالعہ جاری رکھا لیکن ابھی بھی سائنس دانوں کے پاس کئی سوال ہیں کہ یہ پانی کہاں سے آیا کچھ کا خیال ہے کہ پانی یا دیگر اتار چڑھاؤ سے کافی عرصے سے کچھ باقیات یہاں رہ گئی ہوں گی تو کچھ بارشوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو بخارات بن کر یہاں آئے ہوں گے۔