ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل کی سی سی ٹی وی ٹائم لائن جاری
فوٹیج میں ڈاکٹرعمران فاروق کے قتل سے 2 روزپہلے محسن علی سید کو ایجوئیرمیں کیش مشین سے رقم نکالتے دیکھا جاسکتاہے۔
یہ
پہلا موقع تھا کہ جب محسن علی سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ میں قید ہوا
تھا۔14 ستمبر 2010 کو بنی یہ ویڈیو تفتیش میں بریک تھرو ثابت ہوئی تھی۔
اسی
روز محسن کو دوسرے ساتھی محمد کامران کےساتھ ایجوئیراسٹیشن پر دیکھا
جاسکتا ہے اور اسی شام کو محسن نے ایک دکان سے چاقو خریدے تھے جن میں سے
ایک ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں استعمال کیا گیا تھا۔
2 روز بعد 16 ستمبرکو قتل سے آدھا گھنٹہ پہلے محسن اور کامران کو بس اسٹاپ پر بظاہر کسی کاانتظار کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
اگلی
ویڈیو میں ڈاکٹرعمران فاروق قتل سے چند منٹ پہلے پیدل گھر جاتے دیکھے
جاسکتے ہیں اور2 منٹ بعد محسن سید کو ان کے پیچھے بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے
جب کہ 5 منٹ بعد ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کردیا گیا تھا۔
واضح رہےکہ
10 سال بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ
سناتے ہوئے تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو عمر قید کی سزا
سنائی ہے جب کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ثابت ہوگیا عمران فاروق
کے قتل کا حکم بانی متحدہ نے دیا تھا۔