اسلام آباد، کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا، چیف جسٹس پاکستان
www.tnnlive.tv
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے، نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے، این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں؟ این ڈی ایم اے باہر سے ادویات منگوا رہا ہے، نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کے لئے منگوائی جارہی ہیں،دستاویز کے مطابق این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر نجی کمپنی کے لئے مشینری منگوائی، کیا مشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ این ڈی ایم اے کو قانونی تحفظ حاصل ہے، این ڈی ایم اے کا آڈٹ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کرتا ہے،این ڈی ایم اے ادویات منگوانے میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔ ڈیوٹی میں فائدہ کسی کمپنی کو نہیں دیا گیا۔
ممبر این ڈی ایم اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 28 کمپنیوں نے مشینری باہر سے منگوانے کے لئے این ڈی ایم اے سے رابطہ کیا، یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح تو یہ نجی کمپنی این 95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے۔ نجی کمپنی کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا، نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں، ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اس کے مالک کا گھر بیٹھے کام ہوگیا، نہیں معلوم کہ باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا۔ این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لئے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دیا؟ ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔ این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی، ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے، بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی۔
جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ عوام کو روٹی، پیٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضرورت ہے، ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔