Jun 30, 2020 08:28 pm
views : 253
Location : National Assembly
Islamabad- Outraged Naveed Qamar takes off coat in NA to fight PTI's Ali Zaidi
قومی اسمبلی کا اجلاس،حکومت اور اپوزیشن میں سخت گرما گرمی
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت اور اپوزیشن میں سخت گرما گرمی ہوئی۔
وفاقی
وزیر علی زیدی نے پاکستان پیپلزپارٹی پر کڑی تنقید کی جس پر پیپلز پارٹی
ارکان نے ایوان میں شور شرابہ کیا۔ اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا
تو تحریک انصاف کے اراکین بھی ڈائس کے پاس پہنچ گئے۔
وفاقی وزیر علی
زیدی لیاری گینگ وار کے دہشت گرد عذیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ ایوان میں
لے آئے اور کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مجھے کرپٹ وزیر قرار دیا، میں
چیلنج دے رہا ہوں کہ ایک روپے کی کرپشن کا ثبوت دے دیں، اپنے بچوں کو حرام
نہیں کھاتا،بھٹو کی جماعت لوٹ کی اور دہشت گردی کی جماعت کیسے بن گئی۔
علی
زیدی نے کہا کہ پاکستان میں سب سے پہلے دہشت گردی پیپلز پارٹی لائی، 1981
میں الذوالفقار نے پی آئی اے کا طیارہ اغوا کیا، خالد شہنشاہ کا قتل کس نے
کیا، بینظیر بھٹو کا قاتل کون تھا، بلاول کے ڈیڑھ ارب کے اثاثے ہیں، جے
آئی ٹی کہتی ہے کہ عذیر بلوچ کا خاندان شروع سے پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا،
جے آئی ٹی کے مطابق نثار مورائی نے تین قتل کا اعتراف کیا ہے، سعید غنی کا
بیٹا ڈرگ سپلائرز کی سرپرستی کرتا ہے، عزیز بلوچ نے جن کے کہنے پر لوگوں کو
قتل کیا وہ یہاں آکر بجٹ پر تقاریر کرتے ہیں۔
علی زیدی کی تقریر کا
جواب دیتے ہوئے نوید قمر طیش میں آگئے اور اپنا کوٹ آدھااتارتے ہوئے بولے
یہ آپ کیسارویہ اپنا رہے ہیں، کیا آپ لڑائی کرنا چاہتے ہیں، اگر لڑائی کرنی
ہے تو آجائیں میں تیار ہوں۔ اس پر حکومتی اراکین نے اوئے اوئے کی آوازیں
لگائیں۔ علی امین گنڈا پور، مراد سعید اور دیگر نے بھی پیپلز پارٹی پر
تنقید کی۔
پی پی پی کے عبدالقادر پٹیل نے ایوان میں سیتا وائٹ کیس کا
ذکر چھیڑ دیا تو اسپیکر قومی اسمبلی نے عبدالقادر پٹیل کا مائیک بند کر
دیا۔
اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا۔
انہوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور مک گیا تیراشو نیازی کے نعرے
لگائے۔ شاہد خاقان عباسی، رانا ثنا اللہ، سید نوید قمر، خواجہ آصف نے
مظاہرہ کی قیادت کی۔
اپوزیشن کی عدم موجودگی میں حکومتی اراکین نے مالی سال 2019-20کاضمنی بجٹ پاس کردیا۔
لاک
ڈاؤن سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے اثرات کا اندازہ لوگ
پوری طرح نہیں لگا سکتے،ہم نے وہ لاک ڈاؤن نہیں کیا جتنا ہم پر دباؤ ڈالا
جا رہا تھا، غریب لوگوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے لاک ڈاؤن کو جلدی
کھولا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر ملک پر اس وقت سب سے بڑا عذاب بنا
ہوا ہے،پاور سیکٹر کے تمام کنٹریکٹس اور قرضہ ہماری حکومت سے پہلے کا
ہے،پاور سیکٹر کو ٹھیک کرنے کے لیے بڑے چینجز کرنا پڑیں گے۔