Jul 04, 2020 12:06 am
views : 250
Location : Different Places
Islamabad- International Plastic Bag Free Day 3rd July
ہر سال تین جولائی بین الاقوامی سطح پر پلاسٹک بیگ فری ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے
انسان کی کم قیمت، ہلکی پھلکی اور پائیدار ،۔۔ایجاد۔۔۔ آج زمین پر بسنے والی جانوں اور ماحول کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے
دنیا
کا سب سے بڑا سمندر بحرالکاہل ہو یا مختلف ممالک سے بہتے بڑے بڑے دریا
جیسے یانگژی، درایائے نیل، سندھ ،گنگا،نائیجر اور میکانگ۔۔ مصنوعی پلاسٹک
سے بھرے نظر آتے ہیں
عام زندگی میں پلاسٹک ،،، فومز، ٹائرز، بمپرز
،مصنوعی چمڑا، ریفریجریٹر ،آٹوموبائل اور پلاسٹک کے ڈبوں میں مہیا کیے
جانے والے کھانے میں استعمال ہوتا ہے۔ بظاہر فائدہ مند نظر آنے والے کچھ
پلاسٹک کو گلنے میں اوسطاً ہزاروں سال لگ جاتے ہیں جبکہ ایک عام پلاسٹک کے
بیگ کو گلنے کے لیے بھی کم سے کم 500 سال درکار ہوتے ہیں۔ جو اب تیزی سے
سمندری وسائل کو زہریلا بنا رہا ہے،ساتھ ہی ساتھ زمین کی سطح اورآ ب و
ہوا کو بھی آلودہ کر رہا ہے
گلوبل رامنگ
نیدر لینڈز کے ماحولیاتی
ادارے گرین پیس کے مطابق دنیا بھر میں تیس کروڑ ٹن پلاسٹک پیدا کیا جاتا
ہے ۔۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی بحر اوقیانوس
میں پلاسٹک کے 297 ارب ٹکڑے موجود ہیں۔ چین، انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ
اور ویت نام سب سے زیادہ کچرا سمندر میں پھینک رہے ہیں۔
امریکہ بھی
پلاسٹک کا ذہر پھیلانے میں پیچھے نہیں، یہاں ہر سال تین کروڑ 30 لاکھ ٹن
پلاسٹک پیدا ہوا ہے جس کا محض دس فیصد حصہ ریسائیکل کیا جاتا ہے۔
اقوام
متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے خوف کا اظہار کیا کہ دور
افتادہ جزائر سے لے کر اٹلانٹک تک،کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جو اس سے بچی ہو۔
اگر یہ رجحان جاری رہا تو سن 2050 تک ہمارے سمندروں میں پلاسٹک کی تعداد
مچھلیوں سے زیادہ ہو جائے گی۔
کتنا پلاسٹک سمندروں میں
سال دو ہزار
انیس میں کنیڈین ماہرین کی تحقیق کے ہوش اڑا دینے والے نتائج سامنے آئے
،، جس کے مطابق دنیا میں موجود ہر شخص سالانہ 50 ہزار پلاسٹک ذرات نگل رہا
ہے ۔۔
جہاں شہروں کی آلودہ ہوا، ساحل سمندر کی ریت اور سمندر میں
نہانے کے دوران ، انسان پلاسٹک ذرات کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل کر رہا
ہے،، وہیں انتہائی چھوٹے اور نظر نہ آنے والے پلاسٹک کے ذرات پانی،
کھانوں، مشروب اور مصالحہ جات میں گھل کر انسان کی غذا میں شامل ہو رہے ہی
کتنے خطرات لاحق ہیں
پلاسٹک
کو جلانے یا دفنانے کی سابقہ کوششوٕں سے جو زہریی باقیات نکلے وہ نہ
صرف پودوں، جانوروں اور انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوئے بلکہ ماحول کو
بھی سموگ اور شدید گرمی کی صورت میں نقصان پہنچا گئے۔ اب اس مصیبت سے
چھٹکارا پانے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جیسے پولی تھین کی
جگہ کپڑے یا کاغذ کے بیزر ،،شیشے کے گلاس میں جوسز اور المونیم کی بوتلوں
میں شیمپوز