Jul 09, 2020 10:35 pm
views : 254
Location : National Assembly
Islamabad- Ruckus in Parliament after Murad Saeed reads Uzair Baloch’s statement
وفاقی وزیر مراد سعید عزیر بلوچ کا 164 کا بیان قومی اسمبلی میں لے آئے
وفاقی وزیر مراد
سعید عزیر بلوچ کا 164 کا بیان قومی اسمبلی میں لے آئے۔ انہوں نے کہا عزیر
بلوچ نے آصف زرداری کیلئے 14 شوگر ملوں پر قبضے کئے، بھتہ آصف زرداری اور
فرالی تالپور کو جاتا تھا، لوگوں کو قتل کرنے کیلئے پولیس موبائل بھی
استعمال کی۔
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر مراد سعید کا اظہار خیال کرتے
ہوئے کہنا تھا عزیر بلوچ کہتا ہے 2008 میں جب جیل میں تھا پیپلزپارٹی نے
قیدیوں کا سربراہ بنایا، ایک جے آئی ٹی میں ہے کہ قبضہ کیا گیا جبکہ دوسری
جے آئی ٹی میں ہے کہ کس کے کہنے پر کیا گیا، عزیر بلوچ نے پولیس مقابلے،
اغوا برائے تاوان، تھانوں پر حملوں کا اعتراف کیا۔
مراد سعید کی تقریر
پر اپوزیشن ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا، پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ
صوبیہ سومرو نے ہیڈ فون مارنے کے لیے وفاقی وزیر مراد سعید کی طرف پھینکا
لیکن انہیں نہیں لگا جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تو
شاہدہ رحمانی نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ ارکان کی گنتی کے بعد کورم مکمل نہ
ہونے پر اجلاس کی کارروائی کورم پورا ہونے تک موخر کر دی گئی۔
دوسری
جانب عمر ایوب اور اسد عمر نے کہا کہ کراچی کے عوام کے مسائل کا ادارک ہے،
کے الیکٹرک کو 200 میگاواٹ مزید بجلی دیں گے، ماضی میں کراچی میں بجلی کی
پیداوار کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھا یا گیا۔