Jul 09, 2020 10:57 pm
views : 244
Location : Different Places
Karachi- Corona virus can be defeated by taking precautions and taking responsibility
کورونا وائرس کو احتیاطی تدابیر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے اسے شکست دی جاسکتی ہے
پاکستان میں کورونا وائرس کے مریض ڈھائی لاکھ کے قریب پہنچنے کو ہیں لیکن ان مریضوں میں اموات پہ جانے والے لوگوں کی تعداد کم ہے جو کہ ایک یقینا"خوش آئند بات ہے۔
اس پھیلی ہوئی وباء کی لپیٹ میں آجانے والے محمد یاسین جو پیشے کے اعتبار سے ایک ٹریول ایجنٹ ہیں اس کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے کارکن کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ اپنی عمر کا ایک بہت بڑا حصہ گزارنے کے بعد اس موذی وباء کی لپیٹ میں آجانے کی تفصیل بتاتے ہوئے محمد یاسین نے بتایا۔
لوگوں کا ماننا ہے کہ کورونا وائرس ہوجانے کے بعد ہسپتالوں میں بھرتی ، آکسیجن اور وینٹیلیٹرز کا ہونا ضروری ہے ، لیکن ایسا کسی حد تک ہے۔ محمد یاسین نے بتایا کہ جب انہیں اس بات کی تشخیص ہوئی کہ انہیں یہ وائرس لگ چکا ہے اس کے بعد انہوں نے ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے اپنے آپکو فورا" آئسولیٹ کر لیا۔
محمد یاسین نے بتایا کہ انہیں اس وائرس کے ابتداء میں کیا کیفیت محسوس ہوئی ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں کورونا وائرس کو لیکر بہت سے مس کونسیپشن ہیں۔
محمد یاسین کا کہنا ہے کہ فوری علاج اور احتیاط سے صحتیابی حاصل کر کے انہیں ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے انہیں ایک نئی زندگی ملی ہو اس ہی کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ ان کی انرجی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اب وہ خود کو تندرست محسوس کرتے ہیں۔
چونکہ محمد یاسین تبلیغی جماعت کے کارکن ہیں اس لحاظ سے بھی انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان مشکلات کے باوجود انہوں نے بتایا کہ احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرتے ہوئے سارے کام ہوجاتے ہیں اور اللہ کے کام تو اللہ خود ہی کرواتا ہے ۔
اپنے آئسولیشن کے دوران میں محمد یاسین نے کس طرح میڈیکیشن لی جس کی وجہ سے وہ آج مکمل طور پر صحتیاب ہیں۔
چودہ دن پہلے اپنے آپکو مکمل آئسولیشن میں رکھنے کے بعد محمد یاسین نے آخر کار کورونا کو شکست دے ہی دی ، اس دوران انہوں نے اپنے کام خود کئے ، کھانا اور کپڑے انہیں ان کے دروازے پر مل جایا کرتے تھے ۔
جہاں کورونا وائرس کی وجہ سے تمام کاروبار بند ہیں وہیں ٹریول ایجنسیز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہے، جس کی وجہ سے ٹریول ایجنٹ بھی پریشانی سے دو چار ہیں ، ؐمحمد یاسین نے بتایا کہ انہیں اپنے کاروبار کے نہ چلنے کا دکھ تو ہے اوپر سے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آکر ان پر بھت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔