Jul 13, 2020 11:17 pm
views : 217
Location : Different Places
Karachi- Kashmir Martyrs Day: PM Imran pays tribute to Kashmiris for 'valiantly fighting' Hindutva regime
لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم شہدائے کشمیر منا رہے ہیں۔
ایک آذان جو بائیس لوگوں نےاپنی جان دے کر پوری کی، ایک پیغام جو کشمیری عوام کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہا ہے، یوم شہدائے کشمیر، ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد اور قربانی کی لازوال داستان ہے۔
13 جولائی 1931 کو سرینگر سینٹرل جیل میں قید کشمیری نوجوا ن عبدالقدیر کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت تھی۔ اس موقع پر ہزاروں کشمیری جیل کے باہر جمع ہو گئے، نماز ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے آذان کی صدا بلند کی تو ڈوگرہ سپاہی نے گولی مار کر اسے شہید کر دیا۔
توحید کے پروانوں نے وہیں سے آذان کو آگے بڑھایا تو ڈوگرہ سپاہی بھی گولیاں برساتے رہے، ایک کے بعد ایک جوان جام شہادت نوش کرتا گیا لیکن آذان گونجتی رہی اور یوں 22 کشمیریوں نے اپنی جان دیکر آذان مکمل کی۔
کشمیری عوام کا ظلم کے خلاف نہ جھکنے کا یہ عہد آج نواسی سال بعد انتفادہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ 90 کی دہائی میں تحریک آزادی کے فیصلے کن معرکے کا آغاز ہوا تو 5 اگست 2019 کے بعد اب بھارت سے آزادی کی یہ جنگ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج یوم شہدائے کشمیر اس عہد کی تجدید کیساتھ منا رہے ہیں کہ بھارت کے غاصبانہ تسلط سے مکمل آزادی تک تکمیل پاکستان کی یہ جنگ پورے عزم کیساتھ جاری و ساری رہے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے یوم شہدائے کشمیر پر کشمیریوں کی نسل در نسل جدوجہدآزادی کو سلام پیش کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہدائے13 جولائی کے لواحقین، اس کے بعد کی نسلیں آزادی کیلئے قربان ہوئیں، کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے نسل در نسل جانیں قربان کیں، یہ قربانیاں ہندتوا سوچ کےتحت کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی بھارتی کوششوں کی ناکامی ہے۔
دوسری جانب یوم شہدائے کشمیر پر مسلح افواج نے بھی جدوجہد آزادی کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ شہداء کے لہو کا ایک ایک قطرہ فراموش کیا جائے گا اور نہ ہی معاف ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم، ناقابل تسخیر جذبے اور جدوجہد آزادی کو دبانے میں ناکام رہے۔ انشاء اللہ کامیابی کشمیریوں کا مقدر ہے۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ اذان کے ایک ایک لفظ کی ادائیگی پر 22 مسلمان قربان ہوئے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی اللہ کا نام لینے والےجانیں دے رہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا نے بوسینیائی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی کی طرح آج بھی چپ سادھ رکھی ہے، ہر روز شہادتیں جذبہ حریت کو پروان چڑھا رہی ہیں۔