Jul 21, 2020 06:32 pm
views : 262
Location : Supreme Court of Pakistan
Islamabad- SC questions NDMA over failure to show transparent expenditure
این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا ہے کسی کو ایک پیسہ نہیں کھانے دینگے،سپریم کورٹ
سپریم
کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ
نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں این ڈی ایم اے کا
نمائندہ نے رپورٹ پیش کی۔
عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ مسترد کرتے
ہوئےکہا کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا
ہے، این ڈی ایم اے کے ممبر ایڈمن کو خود کچھ معلوم نہیں، این ڈی ایم اے
ٹڈی دل کیلئے جہاز اور مشینری منگوا رہا ہے، صرف زبانی نہیں دستاویزات سے
شفافیت دکھانی پڑے گی، کراچی میں اتنا کیش کوئی کیسے دے سکتا ہے، لگتا ہے
ہمارے ساتھ کسی نے بہت ہوشیاری اور چالاکی کی ہے، ویکسین اور ادویات کی
امپورٹ کی دستاویز کہاں ہیں؟
جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ کورونا،
سیلاب، ٹڈی دل اور سب کچھ این ڈی ایم اے کو سونپا گیا ہے، این ڈی ایم اے کو
فری ہینڈ اوربھاری فنڈز دیے گئے تاکہ کورونا سے لڑا جاسکے، این ڈی ایم اے
عدالت اور عوام کو جوابدہ ہے۔
جسٹس گلزار احمد نےشدید برہمی کا اظہار
کرتے ہوئے کہا ہےکہ این ڈی ایم اے کو معلوم ہی نہیں عدالت کے ساتھ کیسے
چلنا ہے ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور
کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔
عدالت نے این ڈی ایم کی رپورٹ مسترد کردی اورجب کہ عدالت نے این ڈی ایم اے سے تمام تفصیلات پر مبنی جامع جواب طلب کرلیا۔