کراچی،مویشی منڈیوں میں عوام کا غیر معمولی رش، خریدار جانور مہنگا ہونے اور بیوپاری سہولیات نہ ہونے کا رونا رونے لگے
عید قربان میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور مویشی منڈیوں میں عوام کا رش بھی عروج پر پہنچ گیا ہے تاہم خریدار مویشیوں کے دام بہت زیادہ ہونے کا رونا رورہے ہیں تو بیوپاری سہولیات کی عدم دستیابی کا راگ الاپ رہے ہیں۔
خریداری کیلئے آئے ایک شہری محمد رضوان کہا کہ منڈی بہت اوپہر چڑھی ہوئی ہے، بیوپاری چھوٹے سے چھوٹا جانور بھی لاکھوں روپے میں بتارہے ہیں۔ بارگیننگ بھی نہیں کررہے، یہاں گرمی بھی بہت ہے اور میں بچوں کے ساتھ منڈی آیا ہوا ہوں۔
منڈی میں تو مختلف اقسام کے جانور فروخت کیلئے رکھ دیئے گئے ہیں اور بیوپاریوں کی بڑی تعداد گاہکوں کی منتظر ہے۔
ایک بیوپاری محمد اکرم نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے میں امسال بیچنے کیلئے کم جانور لایا ہوں۔ کیونکہ پہلے جو لوگ دو ڈھائی لاکھ روپے کا جانور لے سکتے تھے اب نہیں لے رہے، لوگ کورونا کی وجہ سے اب بھی پریشان ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہمیں کوئی سہولیات بھی نہیں دی گئی، جو پانی جانور پی رہے ہیں ہم بھی وہی پانی پی رہے ہیں۔
مویشی منڈی میں عوام کا رش تو دکھائی دے رہا ہے مگر زیادہ تر افراد کی کہیں بات بنتی نظر نہیں آرہی۔
ایک اور خریدار حشمت اللہ کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی نسبت اس سال منڈی کافی مہنگی ہے جو جانور ساٹھ ستر کا تھا ابھی اسی نوے کا ہوگیا ہے، بہت مشکل ہورہی ہے۔
سنت ابراہیمی کی غرض سے لوگوں کی بڑی تعداد مویشی منڈی میں نظر آرہی ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق جانوروں کی خریداری کیلئے مصروف عمل ہے۔
اس موقع پر ایک خاتون خریدار زینت سعیدکا کہنا تھا کہ پچھلے سال بہت اچھی منڈی چل رہی تھی، اس مرتبہ بہت مہنگی ہے، صبح سے آئے ہوئے ہیں دوپہر ہوگئی ہے کوئی سودا نہیں بنا، نصیب میں ہوگی قربانی تو جانور لے سکیں گے۔