Jul 28, 2020 04:00 pm
views : 243
Location : Domestic Place
Karachi- Polio campaign resumes after four-month hiatus
کراچی،چار ماہ کے تعطل کے بعد پولیو مہم کا دوبارہ آغاز، کورونا سے بچاؤ کی غرض سے پولیو ورکرز اور بچوں کے والدین کو بھی ماسک اور سینی ٹائیزر فراہم
چہرے پر ماسک اور ہاتھوں میں گلوز پہنے پولیو ویکسین ورکرز نے چار ماہ بعد اپنے کام کا دوبارہ آغاز کردیا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے باعث گزشتہ مارچ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کو روک دیا گیا تھا۔ جس کا آغاز بیس جولائی سے آٹھ لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کے ٹارگٹ کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔ یہ ٹارگٹ پانچ روز میں حاصل کیا جائے گا۔
پولیو مہم کے افسران کے مطابق وباء کے دوران پولیو مہم کو دوبارہ شروع کرنے کا مقصد پولیو کی بیماری کے دوبارہ زور پکڑنے کے خیال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
یونین کونسل کمیونی کیشن سپورٹ آفیسر نے بتایا
دنیا میں 1988ء سے پولیو کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے نتیجے میں آج دنیا کے صرف تین ممالک میں پولیو کے کیسز موجود ہیں جن میں شامل پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا ہے جہاں پولیو کے کیسز رہ گئے ہیں۔
بین الاقوامی ادارہ صحت کے مطابق پولیو کیسز میں ننانوے اعشاریہ نو فیصد قابو پولیا گیا ہے۔
آج سے تیس سال قبل دنیا کے ایک سو پچیس ممالک میں تین لاکھ پچیس ہزار بچے ہر سال پولیو کے مرض میں مبتلا ہوجاتے تھے۔
بین الاقوامی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان اور افغانستان سے پولیو کے خاتمے کیلئے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
پولیو کے ایک ایمرجنسی سینٹر کے اعلامئے کے مطابق پولیو کے قطرے پلانے والے ورکرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں اور اہلخانہ سے فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے قطرے پلانے کا عمل جاری رکھیں۔
کورونا سے بچاؤ کی غرض سے پولیو ورکرز کو ان کے ذاتی استعمال اور بچوں کے والدین کو فراہم کرنے کیلئے ماسک اور سینی ٹائیزر فراہم کئے گئے ہیں۔
پولیو ورکرز کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اس لاعلاج بیماری سے بچانے کیلئے پولیو کے قطرے لازمی پلائیں ۔
اس حوالے سے ایک پولیو ورکر نے بتایا
ڈبلیو ایچ او کے اعداد وشمار کے مطابق 2020 میں اب تک پاکستان میں 60 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد 2017 میں آٹھ 2018 میں بارہ تھی۔ 2019 میں تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا اور کیسز کی تعداد147 تک پہنچ گئی۔
ڈاکٹر قیصر سجاد نے پولیو کی مہم پر بات کرتے ہوئے بتایا
گزشتہ سال پاکستان کے شمالی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندوں نے اس افواع کے بعد کے پولیو کے قطرے پینے کے بعد بیمار ہورہے ہیں۔ دیہاتوں پر واقع پولیو سینٹرز پر دھاوا بول دیا اور سینٹر کو نذر آتش کردیا تھا۔ ان واقعات میں ایک لیڈی پولیو ورکر اور دو پولیس اہلکار گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کے بعد پولیو مہم کو روک دیا گیا تھا۔