Jul 29, 2020 09:05 pm
views : 225
Location : different Areas
Karachi- leniency of administration, use of masks and gloves in various places less
کراچی، انتظامیہ کی نرمی کی وجہ سے ایس او پیز کی دھجیاں اڑادی گئیں، مختلف مقامات پر ماسک اور دستانوں کا استعمال برائے نام
بازاروں،
شاپنگ مالز اور دیگر جگہوں پر ماسک اور دستانوں کا استعمال برائے نام نظر
آتا ہے۔لاک ڈاؤن اور اسمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کی
طرف سے نرمی برتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے دکانیں اور کاروبار مقررہ اوقات
سے زائد اوقات تک کھلے رہتے ہیں۔
کھانے پینے کی دکانیں اور ٹیک اوے ریسٹورنٹس بھی ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کررہے۔
خود
عوام کا کہنا ہے کہ ہم دو ہفتے سے زیادہ احتیاط نہیں کرسکتے۔ جس کی بڑی
وجہ اوریرنس کا نہ ہونا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کی اہمیت سے
زیادہ پیسے کی اہمیت ہے اور جب تعلیم ہی نہیں ہے تو شعور کہاں سے آئے گا۔
ادھر
ماسک ، سینی ٹائیزر اور دستانے فروخت کرنے والے ہول سیلرز نے ان اشیاء کی
خریداری روک دی ہے اور اپنے اسٹاک کو جلد از جلد ختم کررہے ہیں۔
ایک
مقامی میڈیکل اسٹور کے مالک نے بتایا کہ ان دنوں ان کی کوشش ہے کہ وہ کم از
کم اپنے پاس موجود اسٹاک کو اس قیمت پر فروخت کریں جس قیمت پر انہوں نے
خریدا تھا کیونکہ اپنے پاس ڈیڈ اسٹاک کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
سندھ
حکومت نے پارکس اور پبلک مقامات کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پیٹرول
اسٹیشن کو بھی چوبیس گھنٹے کام کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ عید قربان قریب
ہے اور جانوروں کی منڈیوں میں نمایاں گہما گہمی نظر آنے لگی ہے لیکن یہاں
بھی کورونا وائرس کیلئے بنائی گئ ایس او پیز صرف پوسٹرز اور بینرز تک لکھی
ہدایات تک نظر آتی ہیں۔
سرکاری اعداد وشمار کے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک ہزار تریسٹھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
مارکیٹ
میں ماسک اور سینی ٹائیزر کی فروخت میں پچاس فیصد تک کمی آگئی ہے جس کا
صاف مطلب یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نے احتیاط کرنا چھوڑ دیا ہے جو ماسک دو
ہزار تک کی قیمت میں باآسانی فروخت ہوجاتا تھا اب تین سو روپے میں بھی
فروخت ہونا مشکل ہوگیا ہے جس کی ایک اور بڑی وجہ روڈوں ایک طے کا کپڑے کا
ماسک جو باآسانی دس یا بیس روپے میں مل جاتے ہیں لیکن ان کی افادیت نہ ہونے
کے برابر ہے۔
سرجیکل مارکیٹ کے ایک دکاندار کا کہنا ہے کہ تقریبا" ایک
مہینے پہلے لوگ بہت زیادہ خریداری کرتے تھے جن میں آکسیجن سلینڈر، پلز آکسی
میٹر اور تھرما میٹر وغیرہ شامل تھے لیکن اب لوگوں کے دلوں سے شاید کورونا
وائرس کا خوف اب بالکل ختم ہوچکا ہے۔